چین میں 6.8 شدت کا زلزلہ ،شی جن پنگ کا زندگیاں بچانے اور نقصانات کم کرنے کے لیے فوری امدادی کارروائیوں کا حکم
بیجنگ، 7 جنوری : چین کے صدر شی جن پنگ نے تبت کے خودمختار علاقے کے ایک ضلع میں منگل کی صبح آنے والے 6.8 شدت کے زلزلے کے بعد زندگیاں بچانے اور جانی نقصانات کو کم کرنے کے لیے فوری اور بھرپور امدادی کارروائیوں کا حکم دیا۔
شی، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں، نے اہم ہدایات جاری کیں اور زخمیوں کی تلاش، ریسکیو اور علاج معالجے کے لیے انتھک کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے ثانوی آفات کی روک تھام، متاثرہ افراد کی بحالی، اور زلزلے کے اثرات کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
شی نے کہا کہ زلزلوں کی مانیٹرنگ اور قبل از وقت انتباہ کو مضبوط کرنا ضروری ہے، آفات سے نمٹنے کے لیے امدادی سامان فوری طور پر فراہم کیا جائے، متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی مرمت کو تیز کیا جائے، رہائشیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے اور سب کے لیے محفوظ اور گرم موسم سرما کو یقینی بنایا جائے۔

شی جن پنگ کا بدعنوانی کے خلاف سخت اور طویل جنگ جیتنے کا عزم
وزیر اعظم لی چیانگ، جو سی پی سی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے منگل کو ایک ہدایت میں زلزلے کی صورتحال اور جانی نقصانات کا فوری جائزہ لینے، بھرپور ریسکیو آپریشنز کے انعقاد، اور نقصانات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ زلزلہ زدہ علاقہ سرد پہاڑی خطے میں واقع ہے، اس لیے متاثرین کی بنیادی ضروریات کو یقینی بنانے اور انہیں موسم سرما کے دوران گرم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں۔
نائب وزیر اعظم ژانگ گووچنگ، جو سی پی سی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن ہیں، نے ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے زلزلے کی جگہ کا دورہ کیا۔
خیال رہے کہ منگل کو صبح 9 بج کر 5 منٹ (بیجنگ وقت) پر چین کے جنوب مغربی علاقے تبت کے خودمختار خطے میں شہر شیگاتسے کے ڈنگری کاؤنٹی میں 6.8 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں منگل کی دوپہر 3 بجے تک 95 افراد جاں بحق اور 130 دیگر زخمی ہو چکے تھے۔
