وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 27 ستمبر تک اڈیالہ نہ جانے کا اعلان، ملاقات نہ ہونے پر ملک گیر احتجاج کی دھمکی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت خود ملاقات کی تصدیق کرے گی تو ہی وہ دوبارہ اڈیالہ جیل آئیں گے۔
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ 27 ستمبر سے قبل دوبارہ اڈیالہ جیل نہیں جائیں گے، حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی باضابطہ تصدیق کے بعد ہی جیل کا رخ کریں گے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ جمعرات کو آخری مرتبہ اڈیالہ جیل آئے ہیں اور جیل کی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام عمران خان سے ان کی ملاقات نہیں کرانا چاہتے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ حکومت خود ملاقات کی تصدیق کرے گی تو ہی وہ دوبارہ اڈیالہ جیل آئیں گے۔
ملاقات نہ ہوئی تو ملک گیر احتجاج کا اعلان
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو پی ٹی آئی کارکن جمعرات کی رات 10 بجے سے ملک بھر میں سڑکیں بلاک کریں گے۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی اور پی ٹی آئی کے پرچم لے کر سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کریں۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اپریل 2022 سے ملک کے مقبول ترین رہنما کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے، اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔
پی ٹی آئی میڈیا سیل کے مطابق مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جہاں کارکن چوکوں میں جمع ہوئے اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔
27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وہ 27 ستمبر کو 2 ملین افراد کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں اور عوام سے 27 ستمبر کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس تاریخ کو حکومت کے لیے ایک ’’ڈراؤنا خواب‘‘ قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبر کے علاقے میں مختصر نوٹس پر بڑی تعداد میں حامی جمع ہوئے اور اسی نوعیت کی تحریک دیگر اضلاع میں بھی شروع کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اتوار کو بنوں میں بھی احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
اہم سرکاری دفاتر بند کرنے کا مطالبہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا نظام مفلوج ہوچکا ہے اور بعض وزرا بھی اس صورتحال کا اعتراف کررہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم ہاؤس سمیت اہم سرکاری دفاتر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے مؤثر انداز میں کام نہیں کررہے اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ ایسے اداروں پر خرچ ہورہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مزدور، صنعت کار اور معاشرے کے دیگر طبقات بھی اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ ملک درست سمت میں نہیں جارہا۔
عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا دعویٰ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ 3 ججز کی جانب سے عمران خان سے ہفتے میں 2 مرتبہ ملاقات کی اجازت کے احکامات موجود ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔
ان کے مطابق ملاقاتوں کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں بھی بے بس دکھائی دیتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل انتظامیہ کو عمران خان سے اہلخانہ اور وکلا کی ملاقاتیں منگل جبکہ پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں جمعرات کو کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے، تاہم ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان احکامات پر کئی ماہ سے عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
