پاکستان بھر میں آج 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے قومی اتحاد، معاشی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات، ملکی مفادات کے تحفظ اور امن کے فروغ پر زور دیا
اسلام آباد: پاکستان بھر میں آج ملک کا 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے قومی اتحاد، معاشی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات، ملکی مفادات کے تحفظ اور امن کے فروغ پر زور دیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق یومِ آزادی کا آغاز اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب بھی منعقد کی گئی۔
پاکستان کی سلامتی خطے میں امن سے جڑی ہے، صدر زرداری
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں قائداعظم محمد علی جناح، تحریک پاکستان کے کارکنوں اور ان تمام افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آزاد وطن کے حصول کے لیے اپنے گھر، تحفظ اور روزگار قربان کیے۔
صدر زرداری نے کہا کہ آزادی صرف ایک تاریخی کامیابی نہیں بلکہ ہر نسل کی ذمہ داری بھی ہے، جسے آگے بڑھانا ضروری ہے۔ عوام کی جمہوری خواہش کے نتیجے میں وجود میں آنے والے پاکستان کو مزید مضبوط، محفوظ اور خوشحال بنانا قومی ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق ہمارا کام صرف گزشتہ نسلوں کی کامیابیوں کو یاد کرنا نہیں بلکہ اپنی محنت سے ان کامیابیوں میں اضافہ کرنا بھی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے واقعات نے پاکستانی قوم کی طاقت کا ایک مرتبہ پھر احساس دلایا ہے۔
گزشتہ برس بھارت کے ساتھ ہونے والے مختصر فوجی تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے واقعات نے ثابت کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے عزم اور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کا اصل سبق ذمہ داری ہے، کیونکہ جو ملک اپنا دفاع کرسکتا ہے اسے اپنی طاقت کو تنازعات روکنے، امن کے تحفظ اور عوام کے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
صدر نے کہا کہ آج ملک میں جو سلامتی اور استحکام موجود ہے، وہ بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری اور عزم نے بیرونی جارحیت اور دہشت گردی کے خطرے سے ملک کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی صلاحیت، جغرافیائی حیثیت اور رابطہ کاری کے ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال کیا ہے۔
ان کے مطابق ایسے وقت میں جب وسیع تر تنازع خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، پاکستان نے بات چیت اور کشیدگی میں کمی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
صدر نے واضح کیا کہ تمام تنازعات کو بالآخر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی خطے اور دنیا میں امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے پاکستان کشیدگی کم کرنے، علاقائی استحکام کے تحفظ اور تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
1/2
Message from the President of Pakistan, Asif Ali Zardari on 79th Independence Anniversary
On the occasion of the 79th Independence Anniversary of Pakistan, I extend my heartfelt greetings to all Pakistanis at home and abroad.
14 August is a day when we remember the… pic.twitter.com/ugukeVtuiz
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) August 13, 2026
معیشت، تعلیم اور نوجوانوں پر سرمایہ کاری ضروری ہے
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے والے بنیادی کاموں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
انہوں نے معیشت کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے، تعلیم اور فنی مہارتوں کو بہتر بنانے اور حکمرانی، معاشی و سماجی اصلاحات کے ذریعے اداروں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی اور جمہوریت کے ثمرات ملک کے ہر حصے اور ہر طبقے تک پہنچنے چاہئیں۔
صدر زرداری نے نوجوانوں کو پاکستان کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر اور دنیا کے مختلف حصوں میں پاکستانی نوجوان سائنس، ٹیکنالوجی، کاروبار، تعلیم اور تخلیقی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو وہ تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کیے جائیں جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔
صدر کے مطابق نوجوانوں پر آج سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام پاکستانی کے لیے قومی ترقی کا مطلب عملی بہتری ہے۔ اس کا مطلب نوجوان کے لیے ہنر اور روزگار کا موقع، خاندان کے لیے معیاری تعلیم اور صحت کی سہولت، جبکہ کسان، مزدور، تاجر اور کاروباری طبقے کے لیے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کا اعتماد ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کی طاقت کا اصل اندازہ اس بات سے ہوگا کہ قومی ترقی سے عوام کی زندگی کس حد تک بہتر ہوتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے صدر کا مؤقف
صدر مملکت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی امنگوں اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔
افغانستان کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کی قومی خودمختاری کا احترام اور حمایت کی ہے اور وہ بھی اسی جذبے کے تحت باہمی احترام کی توقع رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت مبینہ طور پر مختلف دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت اور حمایت دے رہی ہے۔
صدر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف دہشت گرد حملوں میں تعاون کررہی ہے اور یہ اقدامات پاکستان کی امن سازی کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افغان حکومت پاکستان کے عوام کے خلاف ایسے اقدامات بند کرے اور کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ایسے عزائم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
صدر مملکت نے اپنے پیغام کے اختتام پر قوم سے اپیل کی کہ ہر شخص اپنے شعبے میں ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان اپنے قومی مفادات کے دفاع کیلئے پرعزم ہے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی یومِ آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں پاکستان کے بانی رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ آزاد وطن کا خواب ان کی بصیرت، سیاسی تدبر اور قربانیوں کے باعث حقیقت بنا۔
وزیراعظم نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران حکومت کی معاشی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کا کامیابی سے مقابلہ کرتے ہوئے معاشی استحکام حاصل کیا اور اب ترقی یافتہ معیشت بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں گزشتہ 2 سال کے دوران 11.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جو ان کے بقول حکومتی پالیسیوں پر بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانا، جدت پر مبنی صنعتی اور زرعی ترقی کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عالمی معیار کے تعلیمی و فنی تربیتی نظام کا قیام حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
معرکہ حق میں مسلح افواج کی بہادری کو خراج تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے معرکہ حق کے دوران غیر معمولی اتحاد اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور ملک کی دفاعی تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، جن میں اس کے آبی وسائل کا حق بھی شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور علاقائی و عالمی امن کے لیے استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر کام جاری رکھے گا۔
انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک کردار کا ثبوت قرار دیا۔

کشمیر اور فلسطین سے اظہار یکجہتی
وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور فلسطینی عوام کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے سفارتی حل پر ہے اور یہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہدا کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی اتحاد، ملکی سالمیت اور قومی مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر پاکستان کی مسلسل ترقی اور عالمی برادری میں وقار کے لیے دعا کی۔
پاکستان کی طاقت عوام کے اتحاد میں ہے، عسکری قیادت
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی یومِ آزادی کے موقع پر قوم کے نام پیغام جاری کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق مسلح افواج نے قائداعظم اور ان تمام افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جن کی قربانیوں کے نتیجے میں ایک خودمختار پاکستان وجود میں آیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بانی پاکستان کا وژن، ان کی بہادری اور عزم آج بھی قوم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں اور پاکستانیوں کو پاکستان کے اصولوں اور نظریات پر قائم رہنے کی تحریک دیتے ہیں۔
مسلح افواج نے شہدا کی عظیم قربانیوں، سابق فوجیوں کی خدمات، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی محنت اور ملک کے لیے خدمات انجام دینے والے ہر پاکستانی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
بیان کے مطابق ان افراد کی بہادری اور بے لوث خدمات نے پاکستان کی قوت برداشت کو مضبوط کیا اور ملک کی آزادی، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلح افواج نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے محافظ کی حیثیت سے وہ ہر خطرے کے خلاف مادر وطن کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں، آئین کی پاسداری اور عوام کی جانب سے سونپی گئی مقدس ذمہ داری کو پورا کرتی رہیں گی۔
بیان میں کہا گیا کہ قوم کے ساتھ متحد ہوکر مسلح افواج امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے ثابت قدم رہیں گی تاکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔
عسکری قیادت نے کہا کہ پاکستان کی طاقت اس کے عوام کے اتحاد اور اجتماعی عزم میں ہے۔
یومِ آزادی کے موقع پر قوم سے اپیل کی گئی کہ وہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے پائیدار اصولوں سے اپنے عزم کی تجدید کرے، قومی یکجہتی کو مضبوط بنائے، برداشت کو فروغ دے اور ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال پاکستان کے لیے مل کر کام کرے۔
