پٹرولیم لیوی سے ریکارڈ 1.57 ٹریلین روپے وصول، مالی خسارہ 2.6 فیصد تک محدود

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینکاروبار

سول حکومت چلانے کے اخراجات پہلی بار 1 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئے، دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ

اسلام آباد: مالی سال 2025-26 کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ 1.567 ٹریلین روپے وصول کیے، جبکہ وفاقی حکومت کے مجموعی مالی خسارے کو صوبائی سرپلس اور سودی ادائیگیوں میں کمی کے باعث 2.6 فیصد تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے مالی سال 2025-26 کی مالیاتی کارکردگی سے متعلق جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم لیوی کی وصولی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.22 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 1.567 ٹریلین روپے ہوگئی۔

پٹرولیم لیوی کی وصولی حکومت کے اصل بجٹ ہدف 1.468 ٹریلین روپے سے بھی زیادہ رہی، جبکہ بعد میں اس ہدف کو بڑھا کر 1.498 ٹریلین روپے کردیا گیا تھا۔

سول حکومت کے اخراجات پہلی بار 1 ٹریلین سے زیادہ

رپورٹ کے مطابق کفایت شعاری اور حکومتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے باوجود سول حکومت چلانے کے اخراجات میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔

مالی سال 2025-26 میں سول حکومت کے اخراجات 1.033 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جو گزشتہ مالی سال میں 892 ارب روپے تھے۔ یوں پہلی مرتبہ سول حکومت چلانے کے اخراجات 1 ٹریلین روپے کی حد سے تجاوز کرگئے اور یہ بجٹ میں مختص 971 ارب روپے سے بھی زیادہ رہے۔

دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ

رپورٹ کے مطابق دفاعی اخراجات بھی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 18 فیصد بڑھ کر 2.588 ٹریلین روپے ہوگئے، جو مالی سال 2024-25 میں 2.194 ٹریلین روپے تھے۔

اضافی دفاعی ضروریات کے باوجود دفاعی اخراجات بجٹ میں مختص 2.55 ٹریلین روپے سے صرف 38 ارب روپے زیادہ رہے۔

دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد تک پہنچ گئے جبکہ گزشتہ مالی سال یہ شرح 1.9 فیصد تھی۔

مالی خسارہ 2.6 فیصد، بنیادی سرپلس ریکارڈ 2.9 فیصد

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں مجموعی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود رہا، جو دستیاب تقابلی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2002-03 کے بعد کم ترین سطح ہے۔

اسی دوران بنیادی مالی سرپلس، جس میں قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کو نکال کر آمدن اور اخراجات کا فرق شمار کیا جاتا ہے، ریکارڈ 2.9 فیصد تک پہنچ گیا۔

مالی سال 2019 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 8.9 فیصد تک پہنچ گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف پروگراموں کے تحت مالیاتی سختی کے بعد اس میں بتدریج کمی آئی۔

سود کی ادائیگیوں میں 1.939 ٹریلین روپے کمی

مالی خسارے میں کمی کی بڑی وجوہات میں صوبوں کا ریکارڈ نقد سرپلس، پٹرولیم لیوی کی بلند وصولی اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی شامل ہیں۔

حکومت کی سودی ادائیگیاں مالی سال 2024-25 کے 8.887 ٹریلین روپے سے کم ہوکر مالی سال 2025-26 میں 6.947 ٹریلین روپے رہ گئیں، یعنی ایک سال میں 1.939 ٹریلین روپے کی کمی ہوئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق پالیسی ریٹ میں 22 فیصد سے کم ہوکر 10 فیصد تک آنے کے باعث سودی اخراجات میں نمایاں بچت ہوئی۔

صوبوں کا سرپلس 1.45 ٹریلین روپے

چاروں صوبوں نے وفاق کو ریکارڈ 1.45 ٹریلین روپے کا نقد سرپلس فراہم کیا، جو گزشتہ مالی سال کے 921 ارب روپے کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ ہے۔

صوبوں میں پنجاب نے سب سے زیادہ 915 ارب روپے کا سرپلس دیا، جو گزشتہ مالی سال کے 348 ارب روپے کے مقابلے میں 163 فیصد زیادہ ہے۔

سندھ کا سرپلس 283 ارب روپے سے بڑھ کر 350 ارب روپے ہوگیا، خیبر پختونخوا نے 165 ارب روپے جبکہ بلوچستان نے 20.74 ارب روپے کا سرپلس فراہم کیا۔

ایف بی آر کی وصولی ہدف سے 10 فیصد کم

رپورٹ کے مطابق مجموعی ٹیکس وصولی معمولی کمی کے ساتھ جی ڈی پی کے 15.6 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال میں 15.7 فیصد تھی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال کے دوران 13.01 ٹریلین روپے وصول کیے، جو مقررہ ہدف سے تقریباً 10 فیصد کم تاہم گزشتہ مالی سال کے 11.74 ٹریلین روپے کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہے۔

سبسڈیز اور ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی

حکومت نے سبسڈی کے اخراجات بھی محدود رکھے۔ مالی سال 2025-26 میں سبسڈیز 1.01 ٹریلین روپے رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 1.3 ٹریلین روپے کے مقابلے میں تقریباً 22 فیصد کم ہیں۔

ترقیاتی اخراجات بھی 786 ارب روپے سے کم ہوکر 727 ارب روپے رہ گئے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مجموعی حکومتی اخراجات 24.16 ٹریلین روپے سے کم ہوکر 23.09 ٹریلین روپے رہے، جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے یہ اخراجات 21.1 فیصد سے کم ہوکر 18.2 فیصد ہوگئے۔

پٹرولیم لیوی کا ہدف مزید بڑھا دیا گیا

حکومت نے رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 1.676 ٹریلین روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر ماحولیاتی لیوی کی مد میں مزید 50 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریکارڈ پٹرولیم لیوی اور صوبائی سرپلس نے مالیاتی خسارہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم سول حکومت کے اخراجات میں پہلی مرتبہ 1 ٹریلین روپے سے تجاوز اور دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ حکومتی اخراجات کے دباؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔