پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، پٹرول کی قیمت میں 45 پیسے جبکہ ڈیزل میں 1.16 روپے اضافہ
پٹرول 325.43 اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 383.95 روپے فی لیٹر ہوگیا، نئی قیمتوں کا اطلاق 14 اگست سے
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کردیا۔ پٹرول کی قیمت میں 45 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.16 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 14 اگست 2026 سے ہوگا۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
حکومت پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کررہی ہے۔
عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں میں تبدیلی
حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے اوگرا کو عالمی مارکیٹ کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد معمولی اضافہ
تازہ اضافے کے باوجود ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل میں ریکارڈ کی گئی 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں کم ہے۔
اسی طرح پٹرول کی قیمت بھی اپریل میں 458.41 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔
مشرق وسطیٰ میں امریکا ایران جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
پٹرول مہنگا ہونے سے عوام براہ راست متاثر
پٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی متوسط اور کم متوسط طبقے کے ماہانہ اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بھی عوام پر بالواسطہ اثر ڈالتا ہے کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بڑے پیمانے پر بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں نقل و حمل اور مختلف اشیا کی لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔
پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے اہم محصولات کا ذریعہ بھی ہیں، جبکہ ملک میں ان دونوں مصنوعات کی ماہانہ فروخت تقریباً 700,000 سے 800,000 ٹن کے درمیان رہتی ہے۔
