ریاض جانے والے مسافر خبردار! بڑی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کردیں

اہم خبریںتازہ تریندنیا

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملے کے بعد عالمی فضائی ٹرانسپورٹ ایک بار پھر سنگین بحران کا شکار ہوگئی ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی خدشات میں یکدم اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں دنیا کی متعدد بڑی اور خلیجی ائیرلائنز نے ریاض کے لیے اپنے فلائٹ آپریشن جزوی یا مکمل طور پر معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

اس صورتحال نے نہ صرف مسافروں کو سخت پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ بین الاقوامی تجارتی اور کاروباری سفر پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو اسلام آباد سے ریاض جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 753 کو راستے میں موڑ کر دمام اتارا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تمام بڑے ائیرپورٹس  کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور اور کوئٹہ  سے ریاض کے لیے کل 28 پروازیں منسوخ کردی گئیں، جس سے ہزاروں مسافر پھنسے یا ادھر ادھر ہوگئے۔ ملتان ائیرپورٹ سے بھی کئی مسافروں کو اپنے سفر منسوخ کرنے یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

ریاض کی پروازیں معطل کرنے والی بڑی بین الاقوامی ائیرلائنز

عالمی سطح پر درجنوں ائیرلائنز نے ریاض کے لیے پروازیں معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ جرمنی کے لفتھانزا گروپ نے 16 اکتوبر تک ریاض کی پروازیں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سری لنکا کی قومی ائیرلائن ائیر لنکا نے 18 اکتوبر تک آپریشن معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ بھارتی بجٹ ائیرلائن اکاسا ائیر نے 13 اکتوبر تک، جبکہ ائیر انڈیا اور ائیر انڈیا ایکسپریس نے 15 اکتوبر تک ریاض کے لیے پروازیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کی ائیرلائنز میں اتحاد ائیرویز (ابوظہبی)، امارات ائیرلائنز (دبئی)، فلائی دبئی، ائیر عربیہ اور کویت ائیرویز نے بھی ریاض کی پروازیں یا تو جزوی طور پر روک دی ہیں یا متبادل راستے اختیار کررہی ہیں۔ ترکش ائیرلائنز نے بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے ریاض آپریشن معطل کردیے ہیں۔ بھارتی ائیرلائن انڈیگو اور پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی چھوٹی بڑی ائیرلائنز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

 ریاض ائیرپورٹ بندش میں توسیع

 مسافروں کی مشکلات سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ ریاض کی بندش میں مزید 24 گھنٹوں کی توسیع کردی ہے۔ نئے نوٹم (Notice to Airmen) کے مطابق ریاض ائیرپورٹ آج رات 12 بجے تک بند رہے گا اور آپریشن بحال ہونے کا وقت ابھی غیر یقینی ہے۔ اتھارٹی نے تمام ائیرلائنز کو متبادل منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان ان پاکستانی مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کو ہورہا ہے جو سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب — ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان  سے ہر سال ہزاروں افراد سعودی عرب روزگار کے لیے جاتے ہیں۔ اس بندش سے ان کے سفر، ویزے کی مدت اور ملازمتی معاملات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ متاثرہ مسافروں کی فوری رہنمائی کریں۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاض جیسے اسٹریٹیجک مقام پر فضائی بندش جتنی طویل ہوگی، تیل کی قیمتوں، کاروباری سفر اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات اتنے ہی گہرے ہوں گے۔ سعودی حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم ائیرپورٹ کے مکمل آپریشنل ہونے کی کوئی حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔