خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر اتفاق، کل وفاقی کابینہ سے منظوری کا امکان

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینساؤتھ نیوز

اسلام آباد :خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی کل وفاقی کابینہ سے منظوری لیے جانے کا قوی امکان ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں  قومی اسمبلی اور سینیٹ  کے الگ الگ اجلاس طلب کر کے اس فیصلے کی آئینی توثیق کرائی جائے گی۔ یہ اہم پیش رفت ایوان صدر میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے جس کی صدارت صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کی۔

اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دیگر اہم وفاقی وزراء نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت میں سے سینئر رہنما نوید قمر اور شیری رحمان بھی اجلاس میں موجود تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فیصلے پر وسیع تر سیاسی مشاورت کی گئی ہے۔

ایوان صدر میں اجلاس کی اہم تفصیلات اور پس منظر

 ذرائع نے بتایا کہ ایوان صدر میں اجلاس کا مرکزی ایجنڈا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وہ جامع رپورٹ تھی جو انھوں نے صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کے حوالے سے وفاق کو بھجوائی تھی۔ گورنر کی رپورٹ میں صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی، قبائلی تشدد اور انتظامی خلا کے حوالے سے تشویش ناک تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ا

جلاس میں خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع سمیت مجموعی طور پر 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 تا 234 کے تحت دستیاب مختلف قانونی آپشنز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ان آئینی دفعات کے تحت وفاقی حکومت کسی صوبے میں سنگین امن و امان کی صورتحال میں گورنر راج یا ہنگامی حالت نافذ کر سکتی ہے اور اہم انتظامی اختیارات مرکز کے پاس منتقل ہو جاتے ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی زیرِ بحث آیا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کچھ اہم اختیارات وفاقی حکومت کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔

ایمرجنسی کیسے لگائی جاسکتی ہے ؟

 آئینِ پاکستان کے تحت ایمرجنسی کا اعلان ایک پیچیدہ آئینی عمل ہے۔ سب سے پہلے وفاقی کابینہ اس کی منظوری دیتی ہے، پھر صدرِ مملکت باضابطہ اعلان کرتے ہیں، اور آخر میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت سے یا سادہ اکثریت سے اس کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس جلد طلب کیے جانے کی توقع ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال ماضی قریب میں انتہائی سنگین رہی ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں، سیکیورٹی فورسز پر حملے اور مقامی آبادی کی نقل مکانی نے وفاقی حکومت کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس اقدام کے دور رس نتائج پر بحث جاری ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے شدید ردِعمل متوقع ہے۔

 جنوبی پنجاب کے باشندوں کے لیے یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا براہِ راست اثر پنجاب کے جنوبی اضلاع تک بھی محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے اس ممکنہ اقدام کو ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔