اے آئی میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ایشیا کو بڑا فائدہ؟، آئی ایم ایف کا اہم انکشاف
عالمی معیشت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاری تیزی سے ایک فیصلہ کن قوت بنتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے واضح کیا ہے کہ اے آئی انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے اخراجات عالمی معاشی نمو کو سہارا دینے والے بنیادی عوامل میں شامل ہو چکے ہیں۔
آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اے آئی انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری نے معاشی سرگرمیوں کو نمایاں تقویت دی ہے، جس کی بدولت عالمی نمو تقریباً 3 فیصد کے آس پاس برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس سرمایہ کاری کے اثرات خاص طور پر امریکا اور ان معیشتوں میں نمایاں ہیں جو عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین کا اہم حصہ ہیں۔ ڈیٹا سینٹرز، طاقتور کمپیوٹنگ چِپس، سرورز، نیٹ ورکنگ آلات اور بجلی کے بڑے وسائل کی بڑھتی ہوئی مانگ نے سیمی کنڈکٹرز اور ہارڈویئر تیار کرنے والے ممالک کی عالمی اہمیت کئی گنا بڑھا دی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بھی غیر معمولی مواقع لے کر آیا ہے۔
اے آئی سرمایہ کاری سے ایشیائی ممالک کو کتنا فائدہ؟
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق جدید ایشیائی معیشتوں میں اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری معاشی نمو میں 0.5 سے 1 فیصد پوائنٹ تک اضافہ کر سکتی ہے۔ وہیں ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں کے لیے یہ ممکنہ اضافہ 0.2 سے 0.8 فیصد پوائنٹ کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ یہ تخمینے ممکنہ اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں، کسی ملک کی یقینی شرح نمو کی ضمانت نہیں۔ ایشیائی ممالک میں تائیوان، جنوبی کوریا، جاپان اور ویتنام جیسے ممالک چِپ اور ٹیکنالوجی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جولائی 2026 کی عالمی معاشی جائزہ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی نمو 3 فیصد اور 2027 کے لیے 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی بڑھتی طلب عالمی نمو کو سہارا دے رہی ہے، تاہم جنگی صورتحال، توانائی کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں کے خطرات بھی برقرار ہیں جن سے غافل نہیں رہا جا سکتا۔
اے آئی کے عالمی انقلاب میں پاکستان کے لیے مواقع
پاکستان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک براہِ راست عالمی اے آئی ہارڈویئر سپلائی چین کا بڑا مرکز بننے کے بجائے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اے آئی سروسز، کاروباری آٹومیشن اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی برآمدات کا حجم گزشتہ چند برسوں میں قابلِ ذکر حد تک بڑھا ہے اور اے آئی کے اس عالمی ابھار سے اسے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں نوجوانوں کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان جیسے شہروں میں ٹیکنالوجی پارکس اور آئی ٹی سینٹرز کا قیام اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ان تمام امکانات سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری، بجلی کی مستقل فراہمی، آئی ٹی پالیسی میں اصلاحات اور نوجوانوں کی تکنیکی تعلیم میں فوری اور عملی پیش رفت ناگزیر ہے۔ عالمی سطح پر اے آئی میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ آنے والی دہائی میں وہ ممالک ہی معاشی میدان میں آگے ہوں گے جو ٹیکنالوجی کو اپنی قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں گے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اے آئی کی عالمی لہر میں اپنا حصہ محفوظ کرے۔
