پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر، 2026 میں پیٹرول کتنا مہنگا ہوا؟

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

 سال 2026 پاکستانی عوام کے لیے ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک پیٹرول 145.13 روپے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے، جبکہ حکومت 80 روپے فی لیٹر تک پیٹرولیم لیوی بھی وصول کر رہی ہے۔ قیمتوں کے اس بے تحاشا اضافے نے گاڑی مالکان، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور عام صارفین کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

جنوری 2026 میں پیٹرول کی قیمت 253 روپے فی لیٹر تھی جو 10 اکتوبر تک بڑھ کر 398.30 روپے فی لیٹر ہو گئی یعنی محض نو ماہ میں 145.13 روپے فی لیٹر کا اضافہ۔ اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 257.08 روپے سے بڑھ کر 396.24 روپے تک پہنچ گئی، جو 139.16 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہے۔ سال کے دوران سب سے تکلیف دہ لمحہ 3 اپریل کو آیا جب پیٹرول 458.41 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تسلیم کیا کہ عالمی تاریخ میں ڈیزل کی قیمتیں بے مثال سطح پر جا پہنچیں اور علاقائی کشیدگی نے خام تیل کی سپلائی کو بری طرح متاثر کیا۔

 روزانہ قیمتوں میں تبدیلیاں

21 جولائی 2026 کو حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ کے نرخوں سے منسلک روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام متعارف کرایا۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد سے 10 اکتوبر تک صرف اسی عرصے میں پیٹرول کی قیمتوں میں 35 بار اضافہ اور 22 بار کمی کی گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں 34 بار اضافہ اور 23 بار تخفیف ہوئی۔ یعنی اوسطاً ہر دو سے تین دن میں قیمتیں بدلتی رہیں، جس نے صارفین کو مسلسل غیریقینی صورتحال میں رکھا۔ وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ ایندھن کی قیمتوں کا تعین حکومت براہِ راست نہیں بلکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کرتی ہے، اور قیمتیں لاگو اخراجات کے مطابق شفاف انداز میں صارفین تک منتقل کی جا رہی ہیں۔

پیٹرولیم لیوی

حکومت کا بڑا محصول ذریعہ پیٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ یہ لیوی فی الحال 80 روپے فی لیٹر کی شرح سے وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسے ‘غیر ٹیکس آمدنی’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، اس لیے اس کے نفاذ کے لیے پارلیمانی ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ لیوی کی وصولی کے ہدف میں کوئی تبدیلی کثیرالجہتی مالیاتی شراکت داروں سے مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی 1.342 ٹریلین روپے رہی، جبکہ جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک یہ رقم 1.205 ٹریلین روپے تھی۔ مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے 1.676 ٹریلین روپے وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے، جو اس لیوی کی سرکاری خزانے میں مرکزی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے تناظر میں دیکھا جائے تو ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دور افتادہ دیہی علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یہ بوجھ زرعی مشینری، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباروں پر براہِ راست پڑا ہے۔ کاشتکار ٹیوب ویلوں اور زرعی آلات کے لیے ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، جس کی بڑھتی قیمتیں فصل کی لاگت میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔ مجموعی طور پر سال 2026 میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ عام پاکستانی کی زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔ مہنگے ایندھن کے اثرات پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور صنعتی پیداواری لاگت سب پر منعکس ہو رہے ہیں۔ عوام اس انتظار میں ہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ جلد از جلد انہیں منتقل کیا جائے۔