Auto Draft کی اہم تفصیلات اور پس منظر
یہ انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کی سینٹرل جیل میں قید امیر کاروباری شخصیات سے اپنے اہل خانہ، وکلاء یا دوستوں کو واٹس ایپ کال کرنے کے عوض 15 ہزار سے لے کر ڈھائی لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
اس بارے میں پوچھے جانے پر سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالکریم عباسی نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے جیل کا واٹس ایپ پاس ورڈ ہر ہفتے تبدیل کیا جاتا ہے۔
جیل ذرائع کے مطابق، رضوان میمن عرف ‘رضوان گنجا’ کی قیادت میں ایک گروہ اس دھندے کو چلا رہا ہے جس سے روزانہ ایک کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ یہ گروہ میمن برادری سے تعلق رکھنے والے ان ملزمان کے لیے جیل میں "پر تعیش” سہولیات کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو حوالہ/ہنڈی (غیر قانونی رقم کی منتقلی)، گٹکا اسمگلنگ اور کاروباری تنازعات جیسے جرائم میں گرفتار ہوتے ہیں۔
حال ہی میں، اس گروہ نے میمن برادری سے تعلق رکھنے والے ایک بلڈر سے "بی کلاس
کا درجہ دلوانے کے لیے 25 لاکھ روپے وصول کیے، اور بعد ازاں اس بلڈر کی کسی دوسرے شخص سے تین منٹ کی واٹس ایپ کال کروانے کے لیے مزید ڈھائی لاکھ روپے لیے۔
چونکہ جیل کے اندر موبائل فون نیٹ ورک بند ہوتے ہیں، اس لیے ان کالز کے لیے جیل کے وائی فائی کنکشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عام حالات میں، ایسی کالز کے لیے کم از کم 15 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔