AI بوم کہیں مالیاتی بحران نہ بن جائے؟ جاپان نے خبردار کردیا

تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت  AI  کی تیزی نے عالمی طلب اور اثاثوں کی قیمتیں بڑھا دیں، لیکن متوقع منافع سامنے نہ آیا تو مالیاتی منڈیوں میں بڑی گراوٹ کا خدشہ ظاہر کردیا گیا

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی AI کی تیزی کو ٹیکنالوجی کی اگلی بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر AI کے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی میں لگا رہی ہیں، جبکہ سرمایہ کار بھی اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔ تاہم جاپان کے ایک اعلیٰ مرکزی بینکاری عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر AI سے وابستہ کمپنیوں کے بارے میں لگائے گئے منافع کے اندازے پورے نہ ہوئے تو یہی تیزی عالمی مالیاتی منڈیوں میں بڑی گراوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔

جاپان کے نائب گورنر شن ایچی اوچیدا نے 5 اکتوبر کو AI، بگ ڈیٹا اور مالیاتی پالیسی سے متعلق ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں AI کا پھیلاؤ معیشت پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی طلب نے معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا ہے جبکہ مختلف اثاثوں، خصوصاً ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ AI کی موجودہ تیزی کو صرف اسٹاک مارکیٹ کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معیشت کی مجموعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتی ہے تو اس کے اثرات طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

اصل خطرہ کہاں ہے؟

تشویش اس بات پر ہے کہ AI کے شعبے میں اس وقت مستقبل کے بڑے منافع کی توقعات پر بہت زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں کمپنیوں کی آمدنی اور منافع ان توقعات کے مطابق نہ بڑھ سکے تو سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔

ایسی صورت میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں تیزی سے گر سکتی ہیں اور اس کا اثر دیگر مالیاتی منڈیوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اوچیدا نے واضح طور پر اشارہ دیا کہ اگر متوقع منافع سامنے نہ آیا تو مارکیٹ میں correction یعنی قیمتوں میں نمایاں کمی کا خطرہ موجود ہے۔

AI کمپنیوں کی بھاری سرمایہ کاری بھی اہم

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں صرف حصص کی قیمتیں ہی نہیں بڑھ رہیں بلکہ کمپنیاں بڑے پیمانے پر قرض اور بانڈز بھی حاصل کر رہی ہیں۔ AI سے وابستہ اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر بانڈز جاری کیے جانے سے طویل مدتی شرح سود پر اضافی دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔

یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ AI کی ترقی کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹر چپس، بجلی اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر بے تحاشا سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ اگر مستقبل کی آمدنی اس سرمایہ کاری کے مقابلے میں کم رہی تو کمپنیوں اور سرمایہ کاروں دونوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مہنگائی اور شرح سود پر بھی اثر

AI کی بڑھتی ہوئی طلب کا ایک دوسرا پہلو مہنگائی سے متعلق ہے۔ اگر AI کی وجہ سے سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیاں تیزی سے بڑھتی رہیں تو قیمتوں پر بھی دباؤ آسکتا ہے۔ اس صورت میں مرکزی بینکوں کو شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

جاپانی حکام بھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ AI کی تیزی مستقبل میں معیشت کی پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور شرح سود کے عمومی رجحان کو کس حد تک تبدیل کرسکتی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں مکمل تصویر واضح نہیں ہے۔

دنیا کے لیے بڑا سوال

مصنوعی ذہانت بلاشبہ نئی ملازمتوں، کاروباری مواقع، پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری کے دروازے کھول رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ مالیاتی خطرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ AI میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری مستقبل میں واقعی اتنا منافع پیدا کرے گی جتنی توقعات مارکیٹ میں قائم کی جا رہی ہیں۔

اگر یہ توقعات پوری ہوتی ہیں تو AI عالمی معیشت کے لیے طویل مدتی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر منافع توقعات سے بہت کم رہا تو موجودہ تیزی کا رخ اچانک تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار اب صرف AI کی رفتار نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والے حقیقی منافع اور معاشی فائدے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔