جنگ بھی تیل کی برآمدات نہ روک سکی، مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی پھر بڑھ گئی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے باوجود خطے سے خام تیل کی برآمدات میں غیر معمولی بحالی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخری دنوں میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کرگئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری تنازع نے عالمی توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر رکھے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ خلیج سے نکلنے والی بڑی مقدار میں تیل اور توانائی کی مصنوعات اسی اہم بحری راستے سے گزرتی ہیں۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں خطے سے تیل کی برآمدات میں نمایاں خلل آیا تھا، تاہم برآمد کنندہ ممالک نے مختلف راستوں اور دستیاب بحری سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے ترسیل بحال کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔ نتیجتاً ستمبر کے اختتام تک خام تیل کی برآمدات میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم تیل کی برآمدات میں یہ بحالی خطے میں موجود خطرات کو ختم نہیں کرتی۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اردگرد بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے، جس سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج سے ایشیا، یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں کی طرف جانے والے تیل کے بڑے حصے کے لیے یہ سمندری گزرگاہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی بھی طویل رکاوٹ یا بڑے پیمانے کی سکیورٹی خرابی سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کے اخراجات میں تیزی آسکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں تیل کی برآمدات کا جنگ سے پہلے کی سطح سے اوپر آنا عالمی توانائی منڈی کے لیے وقتی طور پر مثبت اشارہ سمجھا جاسکتا ہے، لیکن ماہرین کے لیے اصل تشویش سپلائی کے تسلسل کی ہے۔ اگر بحری جہازوں پر حملے بڑھتے ہیں یا آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو موجودہ برآمدی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کا اثر صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک تک محدود نہیں۔ ایشیا کے کئی ممالک مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے خام تیل پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات عالمی ایندھن کی قیمتوں، شپنگ لاگت اور مہنگائی تک پہنچ سکتے ہیں۔
یوں موجودہ صورتحال میں ایک دلچسپ تضاد سامنے آ رہا ہے: ایک طرف جنگ کے باوجود مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح سے اوپر پہنچ گئی ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی خطے کے اہم بحری راستے میں سکیورٹی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
