ایل پی جی کی قیمت میں بڑا اضافہ، اکتوبر کے لیے فی کلو 279 روپے 34 پیسے مقرر

پاکستانتازہ ترینکاروبار

گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی مزید مہنگی ہوگئی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمت کے تحت ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ مقررہ قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلوگرام ہوگی۔

اوگرا کے مطابق ستمبر میں ایل پی جی کی قیمت 258 روپے 64 پیسے فی کلوگرام مقرر کی گئی تھی، تاہم اکتوبر کے لیے قیمت میں تقریباً 20 روپے 70 پیسے فی کلوگرام اضافہ کیا گیا ہے۔ یوں ایک ماہ کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قیمت میں اضافے کے بعد ایل پی جی استعمال کرنے والے گھرانوں کے ماہانہ بجٹ پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب نہیں یا گیس کی فراہمی محدود ہے، وہاں گھریلو صارفین کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات کے لیے ایل پی جی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

نئی قیمت کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایل پی جی استعمال کرنے والے چھوٹے کاروبار، ہوٹل، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی شعبے بھی اس اضافے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اگر کاروباری اداروں کے ایندھن کے اخراجات بڑھتے ہیں تو ان کے مجموعی آپریٹنگ اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا اثر بعض اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان رہتا ہے۔

ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موسم سرما سے قبل ایندھن کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ سردیوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گھریلو صارفین گیس اور متبادل ایندھن کی زیادہ ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں قیمت بڑھنے سے ان گھرانوں کے لیے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں بھی ایل پی جی گھریلو استعمال کا اہم ذریعہ ہے۔ جہاں پائپ لائن گیس کی فراہمی محدود ہو یا گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ ہو، وہاں شہری سلنڈروں کے ذریعے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ نئی قیمت کے باعث ایسے صارفین کو ماہانہ بجٹ میں اضافی رقم مختص کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ بعض گاڑیاں ایندھن کے طور پر ایل پی جی استعمال کرتی ہیں۔ تاہم اس شعبے میں قیمت کا اصل اثر مارکیٹ میں دستیابی، مقامی فروخت کنندگان کی قیمتوں اور طلب و رسد کی صورتحال سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ قیمت بنیادی طور پر زیادہ سے زیادہ مقررہ قیمت ہوتی ہے، جبکہ مارکیٹ میں بعض مقامات پر فروخت کی قیمت مختلف عوامل کی وجہ سے اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے صارفین کو ایل پی جی خریدتے وقت مقررہ نرخ اور سلنڈر کے وزن پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایل پی جی کی نئی قیمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں گھریلو ایندھن کے اخراجات پہلے ہی عوامی بجٹ کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اکتوبر کی قیمت میں اضافے کے بعد صارفین کی توجہ اب اس بات پر ہوگی کہ مارکیٹ میں ایل پی جی کس نرخ پر دستیاب ہوتی ہے اور آنے والے مہینوں میں قیمتوں کا رجحان کیا رہتا ہے۔