نئے صوبے یا انتظامی یونٹس؟ تجزیہ کار خالد بیگ نے اہم تجاویز دے دیں
اسلام آباد کے نئے گورننس ماڈل پر بحث، سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، خالد بیگ
اسلام آباد: معروف تجزیہ کار خالد بیگ نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا بنیادی مقصد سیاسی مفادات نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز تک پہنچانا ہونا چاہیے، کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے باعث عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پروگرام "نیوز ویوز” میں گفتگو کرتے ہوئے خالد بیگ نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے نئے انتظامی ماڈل پر غور ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اگر دارالحکومت میں عوامی سہولتوں اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے نیا تجربہ کیا جا رہا ہے تو ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کو بھی بہتر انتظامی سہولتوں کا حق ملنا چاہیے۔
نئے صوبوں کی مخالفت کیوں؟
خالد بیگ نے کہا کہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے صوبوں کی مخالفت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو انتہائی حساس بنا دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل توجہ عوام کے مسائل کے حل پر ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ذاتی، سیاسی یا مالی مفادات سے زیادہ اہم عام آدمی تک سہولتوں اور مسائل کے حل کی رسائی ہے۔
صوبائی دارالحکومتوں پر وسائل کا ارتکاز بڑا مسئلہ
خالد بیگ نے کہا کہ پاکستان کے بیشتر صوبوں میں ترقیاتی وسائل اور سہولتیں صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں، جبکہ دیگر شہروں، اضلاع اور تحصیلوں کو مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر لاہور کو بہترین تعلیمی، صحت، سڑکوں، تفریح اور دیگر شہری سہولتیں حاصل ہیں تو پنجاب کے دیگر شہروں کے عوام کو بھی اسی معیار کی سہولتیں کیوں نہیں ملنی چاہئیں۔
ان کے مطابق صرف ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور تشہیر کافی نہیں بلکہ عملی طور پر عام شہری کو سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔
بڑھتی آبادی کے باعث نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت
خالد بیگ نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور مسائل بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں، اس لیے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں ترقی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد بڑے شہروں، خصوصاً کراچی، کا رخ کرتی ہے، جس سے شہری مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں آبادی کے دباؤ کے نتیجے میں جرائم، صفائی، ٹریفک، نکاسی آب اور دیگر مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
ناقص شہری منصوبہ بندی بھی بڑا چیلنج
خالد بیگ نے ملک میں غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں نئی رہائشی کالونیوں کی منصوبہ بندی کے دوران اسکول، پارکس، ڈسپنسریاں، اسپتال اور دیگر بنیادی سہولتوں کو مدنظر رکھا جاتا تھا، تاہم اب بہت سی ہاؤسنگ اسکیموں میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے پر توجہ نظر آتی ہے۔
ان کے مطابق شہری منصوبہ بندی میں عوامی سہولتوں، سڑکوں، پارکس، لائبریریوں، عبادت گاہوں اور دیگر ضروریات کے لیے مناسب جگہ مختص کرنا ضروری ہے۔
صرف اسلام آباد نہیں، پورے ملک کے عوام کو سہولتیں ملنی چاہئیں
اسلام آباد کے مجوزہ انتظامی ماڈل کے حوالے سے خالد بیگ نے کہا کہ اگر دارالحکومت میں گورننس بہتر بنانے کے لیے نیا تجربہ کیا جا رہا ہے تو اس کے فوائد ملک کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ عام شہری کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بار بار صوبائی یا ملکی دارالحکومت کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔
خالد بیگ کے مطابق انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ تعلیم، صحت، انصاف، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتیں عوام کے قریب پہنچائی جائیں۔
انتظامی ڈھانچے کو آبادی کے مطابق تبدیل کرنا ہوگا
انہوں نے کہا کہ موجودہ آبادی کے مقابلے میں بعض علاقوں کا انتظامی ڈھانچہ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آبادی بڑھنے پر نئے تھانے اور پولیس اہلکاروں کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح انتظامی اداروں، افرادی قوت اور سہولتوں میں بھی اضافہ ضروری ہے۔
خالد بیگ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل کو مضبوط کریں اور عوامی مسائل کو سیاسی مفادات پر ترجیح دیں۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں فوری اصلاحات ضروری
خالد بیگ نے کہا کہ عوام کو معیاری صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد اور ڈاکٹروں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف ڈاکٹروں کا نہیں بلکہ پورے نظام کی استعداد کا ہے۔
اسی طرح سرکاری اسکولوں میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ طلبہ کو پڑھانے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک استاد کے لیے سیکڑوں بچوں کو مؤثر انداز میں پڑھانا ممکن نہیں۔
ان کے مطابق ایسے حالات میں اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے بجائے نظام کی اصلاح اور وسائل میں اضافہ کرنا چاہیے۔
عام آدمی مہنگائی اور بلوں کے بوجھ تلے دب گیا
خالد بیگ نے مہنگائی، بجلی اور گیس کے بلوں سمیت بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی اخراجات پورے کرنے میں صرف ہو رہا ہے، جبکہ بیماری یا کسی ہنگامی صورتحال کی صورت میں اضافی اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے مسائل کو ترجیح دیں کیونکہ عوام اپنے نمائندوں کو اسی مقصد کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔
خالد بیگ نے کہا کہ نئے صوبے بنیں یا انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں، اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب اس کے نتیجے میں عام آدمی کو تعلیم، صحت، انصاف اور دیگر بنیادی سہولتیں اس کے قریب دستیاب ہوں۔
