بنگلادیش میں بڑا سیاسی فیصلہ، بی این پی کے مرزا فخر الاسلام عالمگیر نئے صدر منتخب
ڈھاکا: بنگلادیش کی پارلیمنٹ نے حکمران جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا 23واں صدر منتخب کرلیا۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے صدارتی انتخاب میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار ریٹائرڈ کرنل اولی احمد کو واضح اکثریت سے شکست دی۔ انہیں 255 ووٹ ملے جبکہ اولی احمد کے حصے میں 88 ووٹ آئے۔ صدارتی انتخاب میں مجموعی طور پر 343 ارکان پارلیمنٹ نے ووٹ ڈالا۔
35 سال بعد بنگلادیش میں صدر کا متنازع انتخاب
مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا انتخاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بنگلادیش میں یہ تقریباً 35 سال بعد پہلا باقاعدہ مقابلے والا صدارتی انتخاب تھا۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کے امیدوار اولی احمد میدان میں تھے۔
78 سالہ مرزا فخر الاسلام کا سیاسی سفر
78 سالہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر طویل عرصے تک بی این پی کے سیکریٹری جنرل رہے۔ وہ 2016 سے اس منصب پر فائز تھے اور شیخ حسینہ کے دور حکومت میں اپوزیشن کی ایک نمایاں آواز کے طور پر سامنے آئے۔ اس دوران انہیں متعدد مرتبہ گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
بی این پی کے رواں سال اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی نے 13 اگست کو انہیں صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔ بعد ازاں ان کی صدارتی امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی باضابطہ طور پر جمع کرائی گئی۔
صدر کا منصب زیادہ تر رسمی، مگر اہم اختیارات برقرار
بنگلادیش میں صدر کا منصب بڑی حد تک رسمی سمجھا جاتا ہے، جبکہ انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔ تاہم صدر ملک کے سربراہِ مملکت اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی ہوتے ہیں۔
شیخ حسینہ کے بعد بنگلادیش کی سیاست میں ایک اور بڑی تبدیلی
مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا صدر منتخب ہونا بنگلادیش میں 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی بڑی سیاسی تبدیلیوں کا تازہ مرحلہ ہے۔ بی این پی نے فروری 2026 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ اقتدار سنبھالا، جبکہ طارق رحمان وزیراعظم بنے۔ بی این پی اور اس کے اتحادیوں کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔
کل حلف اٹھائیں گے
بنگلادیش کے نئے صدر مرزا فخر الاسلام عالمگیر 21 اگست کو حلف اٹھانے والے ہیں۔ صدارتی انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے صحت کی وجوہات کی بنا پر مدت مکمل ہونے سے قبل استعفے کے بعد خالی ہونے والے منصب پر کرایا گیا۔
