عمران خان کے روزانہ طبی معائنے، ایک آنکھ کی حالت میں بہتری کا دعویٰ

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کی باقاعدگی سے طبی نگرانی کی جارہی ہے اور مختلف سرکاری ماہرین ان کا معائنہ کرچکے ہیں۔

عدالت میں جمع کرائی گئی دو صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق جیل میں تعینات میڈیکل افسران عمران خان کی صحت کی روزانہ نگرانی کرتے ہیں، جبکہ ان کے کھانے پینے اور طبی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دن میں تین مرتبہ طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 4 نومبر سے 10 اگست تک 26 مختلف طبی ماہرین نے عمران خان کے 39 طبی معائنے کیے، جن کی تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہیں۔

آنکھوں کے علاج سے متعلق اہم بیان

اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا آنکھوں کا علاج ماہر امراض چشم کی نگرانی میں جاری ہے اور طبی معائنے کے بعد ان کی ایک آنکھ کی حالت تقریباً معمول کے قریب بتائی گئی ہے۔

یہ دعویٰ جیل انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کا حصہ ہے۔ عمران خان کی آنکھوں کی صحت پہلے بھی عدالتی کارروائی کے دوران زیرِ بحث آچکی ہے، جبکہ رواں سال ان کے دائیں آنکھ کے بینائی سے متعلق طبی مسائل سامنے آئے تھے۔ اس معاملے میں سرکاری طبی حکام اور عمران خان کے وکلا کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔

ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی رپورٹ میں شامل

جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جیل قوانین کے تحت ہر منگل کو ملاقات ہوتی ہے اور اب تک دونوں کے درمیان 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

رپورٹ میں وکیل سلمان صفدر کی جانب سے عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

جیل حکام کے مطابق سلمان صفدر نے 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو عمران خان سے ملاقات کی تھی۔

جیل میں میڈیا سے گفتگو کا معاملہ

رپورٹ میں ملاقاتوں کے دوران میڈیا سے گفتگو کے معاملے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ ایک سابق عدالتی یقین دہانی کے باوجود ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو کی گئی۔

رپورٹ میں جیل قوانین اور ملاقاتوں سے متعلق عدالتی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق عوامی ردعمل کو متاثر کرنے والی گفتگو سامنے آئی۔

تاہم ان الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت کرے گی اور جیل حکام کی رپورٹ میں شامل مؤقف کو عدالتی فیصلہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ میں آئندہ سماعت

عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ عدالت آئندہ سماعت میں جیل حکام کی رپورٹ اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لے گی۔

اس رپورٹ کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا عدالت جیل انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ طبی سہولیات اور ملاقاتوں کے موجودہ انتظامات کو کافی سمجھتی ہے یا عمران خان کے علاج اور ملاقاتوں کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت محسوس کرتی ہے؟

 

فی الحال جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ حکام نے عمران خان کے باقاعدہ طبی معائنے اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج جاری رہنے کا مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ آنکھ کی حالت میں بہتری کا دعویٰ بھی اسی سرکاری رپورٹ میں شامل ہے۔