ٹرمپ کی مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت، شہباز شریف کا خیرمقدم؛ تینوں ملکوں کے سکیورٹی تعاون نے نئی شکل اختیار کرلی

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

 پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوگئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امریکی صدر کے مثبت مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں ممالک اپنے اور خطے کے دفاع کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے معاہدے کو ایک اہم اور جرات مندانہ قدم قرار دیا۔ امریکی صدر کے مطابق اس انتظام سے تینوں ممالک کو کسی ممکنہ خطرے کی صورت میں ایک دوسرے کی زیادہ مؤثر انداز میں مدد کرنے کا موقع ملے گا۔

ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں علاقائی تعاون کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے درمیان بھی اشتراک کے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔

مکہ معاہدہ کی حقیقت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ شق معاہدے کو محض معمول کے دفاعی تعاون سے آگے لے جاتی ہے، تاہم اس کا عملی مطلب یہ نہیں کہ ہر ممکنہ تنازع میں تینوں ممالک لازماً ایک ہی انداز میں فوجی کارروائی کریں گے۔ معاہدے کی حقیقی طاقت اس کے آئندہ نفاذ، باہمی مشاورت اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر سے واضح ہوگی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت رکھتا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اقدام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ معاہدے میں اقوام متحدہ کے منشور کے تحت دفاع کے حق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

معاہدے کے عملی پہلو

معاہدے کے عملی پہلوؤں میں اعلیٰ سطح کی سیاسی اور عسکری رابطہ کاری کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت کے درمیان باقاعدہ مشاورت کا نظام قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اسی طرح مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی منصوبہ بندی اور زمینی، بحری اور فضائی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

دفاعی ٹیکنالوجی بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ سائبر سکیورٹی، الیکٹرانک وارفیئر، مصنوعی ذہانت اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تحقیق و ترقی جیسے شعبے تینوں ممالک کے تعاون کو روایتی فوجی روابط سے آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاہدہ ایک مکمل مشترکہ فوجی اتحاد یا نیٹو طرز کے مربوط دفاعی ڈھانچے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے لیے مشترکہ کمانڈ، انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی منصوبہ بندی اور واضح عملی طریقہ کار جیسے معاملات پر مزید پیش رفت درکار ہوگی۔

شہباز شریف کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے مثبت بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مل کر اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے لیے بھی کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے باہمی تعاون اور پائیدار امن بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی تباہی کو روکنے اور لاکھوں افراد کی جانیں بچانے کی کوششوں پر وہ صدر ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق خطے کے عوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے پائیدار امن کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔

مکہ معاہدے کی اہمیت

مکہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور خلیجی ممالک اپنے دفاعی انتظامات پر نئے سرے سے غور کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک قائم کرنا محض تین ملکوں کے فوجی تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ خطے میں سکیورٹی ذمہ داریوں کی نئی تقسیم کی علامت بھی سمجھا جارہا ہے۔

پاکستان کے لیے اس شراکت داری میں اپنی دفاعی صلاحیت اور عسکری تجربے کو بروئے کار لانے کا موقع ہے، ترکی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور ایک وسیع عسکری صنعتی بنیاد رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب مالی وسائل اور خطے میں اپنی اہم جغرافیائی و سیاسی حیثیت کے باعث اس تعاون میں ایک مختلف نوعیت کی طاقت شامل کرتا ہے۔

عالمی توجہ

ٹرمپ کی حمایت نے یقیناً اس پیش رفت کو عالمی توجہ دلا دی ہے، تاہم موجودہ شواہد کی بنیاد پر اسے امریکی زیرِ قیادت کسی نئے دفاعی اتحاد یا واشنگٹن کی جانب سے تینوں ممالک کو براہِ راست دفاعی ضمانت دینے کے مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ فی الحال مکہ معاہدے کی بنیاد تینوں دستخط کنندہ ممالک کے باہمی دفاعی عزم پر قائم ہے۔