سرائیکی صوبے کی نہ تو مسلم لیگ ن نے مخالفت کہ اور نہ ہی نواز شریف مخالفت کریں گے: عبد الوحید آرائیں

پاکستانتازہ ترینساؤتھ نیوزملتانویڈیوز

’’سرائیکی وسیب سے کیے گئے وعدے پورے کرنا ہوں گے، جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کا قیام مسلم لیگ نون کے منشور کا حصہ ہے‘‘

ملتان: مسلم لیگ ن کے رہنما عبد الوحید آرائیں نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ ن سرائیکی صوبے کی مخالفت نہیں کریں گے، بلکہ نئے صوبے کا قیام پارٹی کے منشور میں تحریری طور پر شامل ہے۔

ملتان کے مقامی لیگی رہنما  عبد الوحید آرائیں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نہ تو سرائیکی صوبے کی مخالفت کرسکتی ہے اور نہ ہی کرے گی۔ ان کے مطابق پارٹی کے منشور میں بھی اس حوالے سے واضح مؤقف موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن سیاسی رہنماؤں نے سرائیکی صوبے کے حوالے سے عوام سے وعدے کیے ہیں، انہیں اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے، بصورت دیگر روزِ قیامت وسیب کے عوام ان سے سوال کریں گے۔

عبد الوحید آرائیں نے کہا کہ سیاست میں کیے گئے وعدے شاید لوگ بھول جائیں لیکن انسان کے اعمال کا حساب محفوظ رہتا ہے، اس لیے وسیب کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن  سرائیکی صوبے کی مخالف ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے کبھی صوبے کے نام پر یہاں ووٹ نہیں مانگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس دیگر بڑی سیاسی جماعتوں نے سرائیکی صوبے کے نام پر ووٹ حاصل کیے اور اقتدار میں بھی آئیں، لیکن سرائیکی وسیب کو اس کے باوجود کچھ نہیں ملا۔

جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کا معاملہ

عبد الوحید آرائیں نے کہا کہ پنجاب کی انتظامی تقسیم کے حوالے سے پنجاب اسمبلی اپنا اختیار استعمال کرچکی ہے اور جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام کی قراردادیں منظور ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب کے رہنما اور مسلم لیگ نون کے کارکن کی حیثیت سے سرائیکی وسیب کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کا قیام وسیب کے عوام اور مسلم لیگ نون کے درمیان کیا گیا وعدہ ہے اور اب اس وعدے کو عملی شکل دینے کا وقت ہے۔

عبد الوحید آرائیں نے کہا کہ اگر پنجاب میں نئے صوبوں کی بات ہوسکتی ہے تو ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کو بھی اپنے انتظامی حقوق کے مطالبے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرائیکی وسیب کے لوگ صوبے کا مطالبہ کرسکتے ہیں تو کراچی کے عوام اور ہزارہ کے لوگوں کا نئے صوبے کا مطالبہ کیوں جائز نہیں ہوسکتا؟

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آسکتے ہیں، اس لیے اس معاملے کو وسیع تر قومی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔