ایران جنگ: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر اہلکاروں کی خودکشی کی کوششوں کا انکشاف
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 5000 امریکی ملاح اور میرینز 250 سے زائد دنوں سے طویل تعیناتی پر ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک سمندر میں رہنے اور مسلسل ڈیوٹی کے باعث بعض اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور متعدد نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
ایک اہلکار کی اہلیہ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ مسلسل اور طویل ڈیوٹی کے باعث ان کے شوہر نے جہاز سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ جہاز کے عملے نے دیگر اہلکاروں کو بھی ایسے اقدامات سے روکا۔
رپورٹس میں جہاز پر خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کے حوالے سے بھی اہلکاروں کے خاندانوں اور امریکی قانون سازوں کی جانب سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔ بعض ارکانِ کانگریس نے طویل تعیناتی، ذہنی صحت اور جہاز پر موجود سہولیات سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جہاز پر حالات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورت حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ امریکی بحریہ نے بھی اہلکاروں میں خودکشی کی کوششوں یا ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو خطے میں بھیجا جارہا ہے، جس کے بعد ابراہم لنکن کے عملے کو واپس لانے کی تیاری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تبدیلی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ موجود بحری جنگی گروپ میں 5000 سے زائد ملاح اور میرینز شامل ہیں۔
