پاکستان نے عالمی تیل سپلائرز کیلئے پیٹرولیم ذخیرہ اور تجارت کا نیا راستہ کھولنے کی تیاری کرلی
کسٹمز بانڈڈ نظام کے تحت غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں تیل ذخیرہ کرکے مقامی مارکیٹ میں فروخت یا دوبارہ برآمد کرسکیں گی، حکومت کا مقصد توانائی تحفظ اور علاقائی تجارتی مرکز بننا ہے
اسلام آباد: پاکستان نے اپنی توانائی کی سلامتی مضبوط بنانے اور ملک کو خطے میں پیٹرولیم ذخیرہ کرنے اور تجارت کے مرکز کے طور پر ابھارنے کے لیے غیر ملکی تیل سپلائرز کو کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج کی سہولت فراہم کرنے کے نئے فریم ورک پر کام تیز کردیا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت عالمی تیل کمپنیاں پاکستان میں خام تیل اور مختلف پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرکے انہیں کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج میں رکھ سکیں گی۔ مصنوعات بانڈ کے اندر رہنے تک ان پر مقامی ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کا اطلاق مؤخر رہے گا، جبکہ سپلائرز کو بعد میں انہیں پاکستانی مارکیٹ میں فروخت کرنے یا بیرون ملک دوبارہ برآمد کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔
یہ تصور مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ پاکستان نے 2023 میں بھی غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج کے لیے پالیسی منظور کی تھی، تاہم اس فریم ورک کے تحت اب تک کسی غیر ملکی سپلائر نے عملی طور پر اسٹوریج قائم نہیں کیا۔ حکومت اب پالیسی میں ترامیم کے ذریعے اسے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
خام تیل سے ایل این جی تک وسیع دائرہ کار
مجوزہ فریم ورک میں مختلف اہم توانائی مصنوعات کو شامل کرنے کی تجویز ہے، جن میں خام تیل، موٹر اسپرٹ، ہائی اسپیڈ ڈیزل، جیٹ فیول، فرنس آئل، ایل پی جی اور ایل این جی شامل ہیں۔
بانڈڈ اسٹوریج کے لیے بندرگاہی اور اندرون ملک مختلف مقامات کو استعمال کرنے کی تجویز ہے تاکہ درآمد شدہ مصنوعات کو صرف بندرگاہوں تک محدود رکھنے کے بجائے بڑے کھپت مراکز کے قریب بھی ذخیرہ کیا جاسکے۔
غیر ملکی کمپنیوں کو مقامی فروخت اور دوبارہ برآمد کی سہولت
اس نظام کے تحت غیر ملکی سپلائر اپنے نام سے یا پاکستان میں قائم اپنی رجسٹرڈ ذیلی کمپنی کے ذریعے کاروبار کرسکیں گے۔ وہ اپنی مخصوص اسٹوریج تعمیر کرنے کے علاوہ لائسنس یافتہ سرکاری یا نجی بانڈڈ گودام بھی استعمال کرسکیں گے۔
بانڈڈ اسٹوریج میں موجود مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی صورت میں متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کرنا ہوں گے، جبکہ بیرون ملک دوبارہ برآمد کے لیے بھی مخصوص کسٹمز اور ریگولیٹری تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ موجودہ پالیسی فریم ورک میں غیر ملکی سپلائرز کو بانڈڈ اسٹوریج سے پیٹرولیم مصنوعات دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
پاکستان کی توانائی سلامتی کیلئے اہم پیش رفت
حکومت کی اس کوشش کا بنیادی مقصد پاکستان کو ہنگامی حالات میں تیل کی قلت سے بچانے کے ساتھ ساتھ توانائی کی سپلائی چین کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانا ہے۔
پاکستان اس وقت اپنی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ضروریات کے لیے درآمدات پر نمایاں انحصار کرتا ہے، جبکہ ملک کے پاس ابھی تک باقاعدہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق سپلائی کے خدشات نے بھی پاکستان کی توانائی سلامتی میں ذخیرہ کاری کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔
حکومت نے اسی تناظر میں اسٹریٹجک ذخائر، کمرشل اسٹوریج، ریفائنری اپ گریڈیشن اور درآمدی انفراسٹرکچر کو توانائی سلامتی کے اہم ستونوں کے طور پر سامنے رکھا ہے۔
سعودی عرب، کویت اور دیگر عالمی سپلائرز کیلئے مواقع
مجوزہ نظام بالخصوص سعودی عرب، کویت، قطر اور دیگر بڑے عالمی تیل سپلائرز کے لیے پاکستان میں ذخیرہ کاری اور تجارت کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ حکومت نے بڑے عالمی توانائی اداروں اور تجارتی کمپنیوں کے ساتھ اس فریم ورک پر مشاورت بھی کی ہے۔
اس ماڈل کے تحت غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کو صرف حتمی منڈی کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے یہاں علاقائی انوینٹری اور تجارتی مرکز بھی قائم کرسکتی ہیں۔ یوں پاکستان میں موجود ذخیرہ ضرورت کے وقت مقامی طلب پوری کرنے کے ساتھ بیرونی منڈیوں کو بھی سپلائی کرنے میں استعمال ہوسکے گا۔
اندرون ملک پائپ لائن کے ذریعے ترسیل کا منصوبہ
مجوزہ نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کو کسٹمز کی نگرانی میں بندرگاہوں سے اندرون ملک منظور شدہ اسٹوریج مراکز تک منتقل کیا جاسکے گا۔ اس سے سپلائرز کو بڑی بندرگاہوں کے بجائے اہم صنعتی اور تجارتی مراکز کے قریب اپنی مصنوعات ذخیرہ رکھنے کا موقع ملے گا۔
حکومت کا خیال ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف ہنگامی حالات میں تیل کی دستیابی بہتر ہوگی بلکہ درآمدی کارگو کی فوری آمد پر انحصار بھی کم کیا جاسکے گا۔
پالیسی کا مقصد کیا ہے؟
حکومت کی نظر میں اس فریم ورک کے ذریعے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں پاکستان درآمد، ذخیرہ، مقامی فروخت اور دوبارہ برآمد کے لیے ایک مربوط پیٹرولیم مرکز بن سکے۔
یہ اقدام کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کی توانائی سلامتی بہتر بنانے، عالمی تیل کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے اور خطے میں پیٹرولیم تجارت کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
