مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

وزیراعظم 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوگی

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، خواجہ آصف، عطا اللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ، اسحاق ڈار سعودی عرب میں وفد کا حصہ بنیں گے

پاک سعودی تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی امن پر اہم مشاورت ہوگی، دفتر خارجہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر 3 روزہ سرکاری دورے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کا حصہ ہوں گے۔ وہ اردن کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پہلے ہی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

شہباز شریف کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوگی

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے اور اس دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوگی۔

ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دونوں ممالک کی قیادت خطے کی موجودہ صورتحال خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی مشاورت کرے گی۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران دورہ اہم قرار

دفتر خارجہ نے وزیراعظم کے دورے کو خطے میں امن کے فروغ، سفارتی تعاون اور استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیراعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی حساس ہے اور خطے کے اہم ممالک کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امید

دفتر خارجہ کے ترجمان نے خطے میں عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عمان نے امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے اور خصوصاً تکنیکی سطح کے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کرے گی۔

اسحاق ڈار کے سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ سے رابطے

دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 30 جولائی کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔

اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی گفتگو کی، جس میں بحیرہ احمر، باب المندب، فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔

فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف برقرار

اسحاق ڈار نے اردن میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ فلسطینی ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق قائم ہونی چاہیے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

اردن میں قیام کے دوران اسحاق ڈار نے اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، عراق اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ پر مشتمل وزرائے خارجہ کے چار ملکی گروپ کے اجلاس میں بھی فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب کیوں اہم ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اہم وفاقی وزرا کی موجودگی کے باعث اس دورے کو پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی روابط کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے ساتھ خطے میں جاری کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی معاملات پر اعلیٰ سطحی مشاورت متوقع ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت حالیہ عرصے میں علاقائی اور عالمی معاملات پر مسلسل رابطے میں رہی ہے۔