آئی سی سی: جنسی بدسلوکی کے الزام میں پراسیکوٹر کریم خان برطرف
[ad_1]
یہ فیصلہ عدالت کے رکن ممالک کی 125 رکنی اسمبلی کے بند کمرہ اجلاس میں رائے شماری کے ذریعے کیا گیا۔ اسمبلی کے صدر نے بتایا کہ 82 رکن ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ کریم خان سنگین بدسلوکی اور اپنے فرائض کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہٰذا انہیں عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔
‘آئی سی سی’ کی اسمبلی جلد نئے پراسیکیوٹر کا انتخاب کرے گی۔ کریم خان کو 2021 میں رکن ممالک نے نو سالہ مدت کے لیے ‘آئی سی سی’ کا پراسیکیوٹر منتخب کیا تھا۔
یو این تحقیقاتی کارروائی
- 2024 میں کریم خان پر جنسی بدسلوکی کے الزامات سامنے آئے۔
- نومبر 2024 میں ‘آئی سی سی’ نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے داخلی نگرانی کو ان الزامات کی تحقیقات کرنے کی درخواست دی۔
- مئی 2025 میں کریم خان نے تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی رخصت لینے کا اعلان کیا جبکہ دفتر استغاثہ کی ذمہ داریاں نائب پراسیکیوٹر نے سنبھال لیں۔
- مارچ 2026 میں عدالتی ماہرین کے پینل کی سفارشات اور نتائج اسمبلی کو موصول ہوئے۔
- جون 2026 میں اسمبلی کے بیورو نےتحقیقاتی رپورٹ، دستیاب شواہد اور عدالتی ماہرین کے مشوروں کی بنیاد پر اپنی جانچ مکمل کی۔
- 8 جون 2026 کو بیورو نے مطلوبہ اکثریت سے فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ تادیبی کارروائی کے لیے اسمبلی کے سپرد کیا تھا۔
کارکردگی اور اختیارات کی حدود
2002 میں میثاق روم کے تحت قائم ہونے والی اس عدالت نے سنگین ترین جرائم کی سماعت کے لیے بین الاقوامی سطح پر اہم معیار قائم کیے ہیں۔ عدالت اب تک سات مقدمات میں سزا سنا چکی ہے جبکہ اس وقت 34 مقدمات زیرسماعت ہیں۔
عدالت حالیہ برسوں میں مختلف مقدمات میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور متعدد دیگر شخصیات کے وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔
‘آئی سی سی’ خود کسی شخص کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ اس مقصد کے لیے اسے اپنے رکن ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
دنیا کے تمام ممالک ‘آئی سی سی’ کے رکن نہیں ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ نے بھی میثاق روم پر دستخط کیے تھے لیکن دونوں ممالک نے آج تک اس کی توثیق نہیں کی۔
2025 میں امریکہ نے اپنی اور اسرائیلی فوج سے متعلق مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے تناظر میں ‘آئی سی سی’ کے نو اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں جن میں جج، پراسیکیوٹر اور نائب پراسیکیوٹر بھی شامل تھے۔
[ad_2]
