پنجاب میں جائیداد کم قیمت پر رجسٹر کرانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینساؤتھ نیوز

لاہور: حکومتِ پنجاب نے مالی سال 2026-27 کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق نئی ٹیکس شرحیں اور رجسٹریشن قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت جائیداد کی اصل قیمت چھپا کر یا کم ظاہر کرکے رجسٹری کرانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ کم قیمت ظاہر کرنے کی صورت میں جرمانے، اضافی وصولیاں اور بعض معاملات میں قانونی حقوق متاثر ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے مالیاتی ڈھانچے کے مطابق زرعی اور غیر زرعی جائیداد کی منتقلی پر 1 فیصد اسٹامپ ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جبکہ اگر رہائشی مکان یا دکان کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس پر 2 فیصد اضافی اسٹامپ ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

نئی شرحوں کے مطابق ٹی ایم اے فیس 1 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس فائلرز کے لیے 2.8 فیصد اور نان فائلرز کے لیے 11.5 فیصد ہوگا۔ اسی طرح ایف بی آر ایڈوانس خریداری ٹیکس فائلرز کے لیے 1.3 فیصد جبکہ نان فائلرز کے لیے 10.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جس سے نان فائلرز پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کی سروس فیس میں بھی نئی شرحیں نافذ کی گئی ہیں۔ 30 لاکھ روپے تک مالیت کی جائیداد پر 3,300 روپے جبکہ 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد پر 1 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔ رجسٹریشن چارجز 5 لاکھ روپے تک 500 روپے اور اس سے زائد مالیت کی جائیداد پر 1,000 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ تحریر نامہ فیس 3,025 روپے، انتقال فیس 600 روپے اور متفرق فیس 100 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ عدالتی ڈگری کے تحت ہونے والی رجسٹری پر 2 فیصد اضافی فیس بھی لاگو ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام واجبات کا حساب ای-اسٹامپ اور ڈیجیٹل رجسٹری نظام کے ذریعے خودکار انداز میں کیا جائے گا تاکہ ٹیکس چوری اور کم قیمت ظاہر کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ جائیداد کی رجسٹری اب سرکاری مقررہ ڈی سی ویلیوایشن اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ کی بنیاد پر جانچی جائے گی۔ اگر کسی ٹرانزیکشن میں جائیداد کی قیمت جان بوجھ کر کم ظاہر کی گئی تو متعلقہ قوانین کے تحت اضافی ڈیوٹی، جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔