پاکستان اور چین کا دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور سکیورٹی تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینچیندنیا

اسلام آباد/بیجنگ :پاکستان اور چین نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ طور پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے دوران طے پایا، جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و استحکام اور سی پیک منصوبوں کی حفاظت پر زور دیا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، شہباز شریف نے چینی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین کا مضبوط اتحادی ہے اور کسی بھی صورت دہشتگردوں کو پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔ صدر شی جن پنگ نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ فوجی مشقیں اور سرحدی سکیورٹی کو مزید موثر بنانا شامل ہے۔

اہم نکات:

  • دونوں رہنماؤں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سی پیک منصوبوں پر حالیہ دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کی۔
  • چین نے پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو سراہا۔
  • اتفاق ہوا کہ پاک-چین جوائنٹ انسداد دہشتگردی میکانزم کو فعال بنایا جائے گا اور 2026 میں مشترکہ انسداد دہشتگردی مشقیں منعقد کی جائیں گی۔
  • سی پیک فیز-2 کے منصوبوں کی سکیورٹی کے لیے خصوصی فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

پس منظر: یہ رابطہ اس وقت ہوا جب گزشتہ ماہ گوادر اور دالبندین میں سی پیک سے منسلک تنصیبات پر دہشتگرد حملوں کے بعد چین نے پاکستان سے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ چینی وزارت خارجہ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر چینی شہریوں کی حفاظت یقینی نہ ہوئی تو کچھ منصوبے معطل ہو سکتے ہیں۔

عالمی اور ملکی ردعمل:

  • تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اتفاق پاک-چین تعلقات میں نئے اعتماد کی علامت ہے اور سی پیک کی رفتار تیز کرنے میں مدد دے گا۔
  • پاکستان کی اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کو اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
  • بھارت نے اس پیش رفت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔