وینزویلا میں بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے، تحقیقاتی کمیشن

اہم خبریںتازہ ترینیو این خبرنامہ

[ad_1]

مشن کی سربراہ مارٹا ویلیناز نے کہا ہے کہ امریکہ کی فوجی مداخلت اور امریکی حکومت کےمطابق، اس کے شہریوں کے خلاف منشیات سے متعلق دہشت گردی کے الزامات پر نکولس مادورو کی گرفتاری کے پیش نظر، وینزویلا میں عوام کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم پر توجہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

اس حوالے سے مشن کی جمع کردہ تفصیلات میں ماورائے عدالت قتل اور زندگی کے حق کی ناجائز سلبی، ناجائز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیرانسانی یا تحقیر آمیز سلوک اور جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد شامل ہیں۔

قانون کی پامالی اور خلاف انسانیت جرائم

مشن کے رکن ایلیکس نیوے نے کہا ہے کہ مادورو حکومت کی جانب سے طویل عرصہ تک جاری رہنے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی امریکہ کی اس فوجی مداخلت کو جائز نہیں ٹھہرا سکتی جو بین الاقوامی قانون کے خلاف ہو۔ اسی طرح، امریکہ کے حملے کی غیر قانونی حیثیت مادورو سمیت وینزویلا کے حکام پر سالہا سال تک جاری رہنے والے جبر و تشدد کی واضح ذمہ داری کو کم نہیں کرتی جبکہ ایسے واقعات انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ وینزویلا کے عوام کو مسائل کے حل درکار ہیں جو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں۔

مشن کی ایک اور رکن ماریا ایلوئیسا کوئنترو کا کہنا ہے کہ حقوق پامال کرنے کی ذمہ داری صرف نکولاس مادورو تک محدود نہیں بلکہ ان لوگون کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے جو  سکیورٹی فورسز پر اختیار رکھتے تھے یا جنہوں نے ان جرائم میں کسی بھی طرح حصہ لیا۔

مستقبل کے خدشات

مشن نے مستقبل میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حقوق کی مزید سنگین پامالیوں کے خطرے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے خاص طور پر جب امریکہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ آئندہ عرصہ کے لیے ملک کو چلائے گا جبکہ وینزویلا کی حکومت نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مشن ملک میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور اس کے عوام کے حقوق، سلامتی اور تحفظ پر اثرات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ اس نے وینزویلا اور امریکہ کے حکام اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ وینزویلا کے عوام کے حقوق طویل عرصہ سے منظم طور پر پامال کیے گئے ہیں اسی لیے انسانی حقوق کو ہر حال میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

[ad_2]

Source link