بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی صحت مزید خراب، وینٹی لیٹر پر منتقل
ڈھاکہ: بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن 80 سالہ خالدہ ضیاء کی صحت کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر سپورٹ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈھاکہ کے ایورس کیئر ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے جمعرات کی رات کو جاری کردہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ خالدہ ضیاء کو سانس کی شدید تکلیف اور دیگر پیچیدہ طبی مسائل کا سامنا ہے۔
میڈیکل بورڈ کے چیف کارڈیالوجسٹ شہاب الدین طالبدار کے مطابق، خالدہ ضیاء کی سانس کی مشکلات میں اضافہ ہوا، ان کا بلڈ آکسیجن لیول کم ہو گیا جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب بڑھ گیا۔ ابتدائی طور پر انہیں ہائی فلو نصل کینولا (HFNC) اور بای لیول پازیٹو ایئر وے پریشر (BiPAP) سپورٹ دی جا رہی تھی، مگر کوئی بہتری نہ ہونے پر انہیں الیکٹو وینٹی لیٹر سپورٹ پر شفٹ کر دیا گیا تاکہ ان کے پھیپھڑوں اور دیگر حیاتی اعضاء کو آرام مل سکے۔
خالدہ ضیاء کو 23 نومبر 2025 کو ڈھاکہ کے ایورس کیئر ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہیں دل اور پھیپھڑوں کی انفیکشن کا علاج شروع کیا گیا۔ 27 نومبر کو ان کی حالت مزید خراب ہونے پر کورونری کیئر یونٹ (CCU) میں منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ شدید انفیکشنز کے خلاف اینٹی بائیوٹک اور اینٹی فنگل ادویات لے رہی تھیں جب انہیں ایکیوٹ پینکریاٹائٹس (پیٹ کی شدید سوزش) کا پتہ چلا۔ ان کی پرانی بیماریاں جیسے جگر، گردے، دل کی بیماری، ذیابیطس اور جوڑوں کی سوزش بھی ان کی حالت کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ان کے گردوں کا کام مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، جس کے لیے ڈائیلاسز اور بلڈ ٹرانسفیوژن کی ضرورت ہے، جبکہ دل کی والو میں شدید انفیکشن بھی پایا گیا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب میڈیکل بورڈ نے خالدہ ضیاء کی صحت پر تفصیلی بیان جاری کیا ہے، جبکہ ان کے ذاتی ڈاکٹر اور بی این پی رہنما اے زی ایم زاہد حسین نے پہلے مختصر اپ ڈیٹس شیئر کی تھیں۔ ہسپتال کے مطابق، ملٹی ڈسپلنری ٹیم روزانہ ان کی نگرانی کر رہی ہے اور اعلیٰ سطح کی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے۔
خالدہ ضیاء کی صحت کی خرابی پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر (ایکس) پر پیغام جاری کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور بھارت کی جانب سے ہر ممکن مدد کی پیشکش کی، جس پر بی این پی نے شکریہ ادا کیا۔ گزشتہ ہفتے انہیں لندن منتقل کرنے کا شیڈول تھا مگر قطر کی طرف سے فراہم کی گئی ایئر ایمبولینس کی تاخیر کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا، اور ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہسپتال میں ہی علاج جاری رکھیں گی جب تک فلائٹ کے لیے فٹ نہ ہوں۔
