اسرائیل کے ساتھ کوئی تعاون نہیں،ترجمان دفتر خارجہ نے جاسوسی الزامات کی سختی سے تردید کر دی

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے خفیہ تعاون یا اسپائی ویئر کی خریداری کی تمام میڈیا رپورٹس کو مکمل طور پر بے بنیاد اور قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایسی تمام خبروں کو مسترد کرتا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے بارے میں ان کے پاس کوئی تازہ معلومات نہیں۔ ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ اسلام آباد میں تاخیر کی وجہ شیڈولنگ کا مسئلہ یا طالبان کی جانب سے تعاون کی کمی ہو سکتی ہے۔

افغان سرحد کی بندش سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جاری رہے گی

ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان۔افغانستان سرحد کی بندش خالصتاً قومی سلامتی کے لیے کی گئی ہے۔ "ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہری دہشت گردی کا شکار ہوں۔ سرحد اس وقت تک بند رہے گی جب تک افغانستان کی طرف سے پختہ یقین دہانی نہ مل جائے کہ ٹی ٹی پی سمیت کوئی پرتشدد گروہ یا افراد پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں بلکہ کئی افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تجارتی گزرگاہیں اور بارڈر کراسنگز بدستور بند ہیں، البتہ اقوام متحدہ کی انسانی امداد کے لیے خصوصی استثنیٰ دیا گیا ہے۔

"افغان عوام ہمارے بھائی بہن ہیں، ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں۔ امدادی راہداری ہمیشہ کھلی رہے گی،” ترجمان نے مزید کہا۔

بابری مسجد کی شہادت کا 33واں یومِ سوگ

ترجمان نے کل 6 دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کے 33ویں یومِ سوگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ آج بھی عالم اسلام کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مقدس مقامات اور مذہبی ورثے کا تحفظ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی منظم حاشیہ بندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے شفاف احتساب کا مطالبہ کیا۔

بھارت۔افغانستان رابطوں پر کڑی نظر

بھارت اور افغانستان کے بڑھتے رابطوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات قابل اعتراض نہیں، لیکن اگر کوئی ملک پاکستان کو "زیرو سم” سمجھ کر افغانستان کے ساتھ تعاون بڑھاتا ہے تو یہ انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان اس صورتحال پر گہری نظر رکھے گا اور اپنے تحفظات بروقت اٹھاتا رہے گا۔

ترجمان نے آخر میں واضح کیا کہ بارڈر پالیسی کا انحصار افغان سرزمین سے پاکستان آنے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور عملی تعاون پر ہے۔