9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس: PTI کے 18 ارکان اشتہاری قرار، جائیداد ضبط و نیلام کی ہدایت
راولپنڈی : انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) پر ہونے والے حملہ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے 18 غیر حاضر ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے ان کی غیر منقولہ جائیداد فوری طور پر ضبط کرنے اور نیلامی کے لیے تیاری کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔
عدالت کے فیصلے میں PTI کے ممتاز رہنما شبلی فراز، عمر ایوب (سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے)، زرتاج گل، کنول شوذب، شیخ راشد شفیق سمیت دیگر شامل ہیں۔ اس فہرست میں مہر جاوید، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، بلال اعجاز، مرتضیٰ خان، اشرف سوہنا، چوہدری آصف، شکیل نیازی، محمد انصر اقبال، حیدر محمود، شاہیر سکندر اور حمزہ لطیف کے نام بھی درج ہیں۔
عدالت نے تمام متعلقہ اضلاع کے ریونیو افسران کو خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات جمع کروائیں اور انہیں قرق کر لیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملزمان مقررہ مدت (جو عدالت کی جانب سے طے کی گئی ہے) کے اندر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کی جائیدادوں کو کھلی نیلامی میں فروخت کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ملزمان کے ضامنوں کو بھی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ عدالت میں وضاحت پیش کریں۔
یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات کے بعد PTI کے خلاف چل رہے متعدد مقدمات کا حصہ ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پارٹی رہنماؤں نے مظاہرین کو تشدد پر اکسایا تھا۔ PTI کی جانب سے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا امکان ہے، جہاں پارٹی ترجمانوں نے اسے "سیاسی انتقام” قرار دیا ہے۔ ملزمان کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے یا ضمانت کی درخواستیں اب تک موخر ہیں، جس سے کیس مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
عدالت نے ضبطی جائیدادوں کی تفصیلات اور نیلامی کی کارروائی کو شفاف بنانے کی ہدایات بھی دی ہیں، جبکہ ملزمان کو ایک آخری موقع دیا گیا ہے کہ وہ سرنڈر کر کے قانونی عمل کا حصہ بنیں۔ اس کیس کی سماعت آئندہ ہفتے جاری رہے گی۔
