عالمی سطح پر دہشت گردی میں افغانستان کا کردار بے نقاب: پاکستان، امریکہ اور تاجکستان کے حملوں کی جڑیں افغان سرزمین میں، بھارت کے روابط پر سوالات
اسلام آباد : اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹس اور عالمی واقعات نے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے روابط کو مزید واضح کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں پاکستان میں دہشت گرد حملے، امریکہ میں واشنگٹن فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ ، یہ تمام واقعات افغان طالبان کی پالیسیوں اور سرحد پار دہشت گردوں کی حمایت سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
UN رپورٹ: افغان سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ
اقوام متحدہ کی 12 فروری 2025 کی 35ویں UNSC Sanctions Monitoring Team رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا "مرکز” بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
- افغان طالبان (TTA) نے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو مالی اور آپریشنل مدد فراہم کی، جہاں TTP کے سربراہ نور ولی محسود کو ماہانہ 43,000 ڈالر مل رہے ہیں۔
- ISIS، ETIM، ال-Qaeda، اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسی تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں ملی ہیں، جبکہ TTP کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں نئی تربیتی کیمپ بنا رہا ہے۔
- ال-Qaeda کی افغان سرزمین پر بحالی جاری ہے، جہاں 2022 میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کے باوجود، طالبان کی مدد سے اس کا اثر بڑھ رہا ہے۔
جولائی 2024 کی UN رپورٹ نے بھی تصدیق کی کہ ال-Qaeda اور TTP جیسی تنظیموں کو طالبان کی طرف سے "اجازت دی گئی پناہ” مل رہی ہے، جو علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ UN جنرل اسمبلی نے جولائی 2025 میں قرارداد منظور کی، جس میں طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بنایا جائے۔
عالمی حملوں میں افغان روابط
- پاکستان میں دہشت گردی: پاکستان نے گزشتہ ماہ متعدد حملوں کا سامنا کیا، جہاں TTP اور BLA کی سرگرمیاں بڑھیں، جو UN رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔
- امریکہ میں واشنگٹن فائرنگ: 27 نومبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری نے نیشنل گارڈ رکن کو قتل کیا، جو بائیڈن دور میں افغان ایویکویشن پروگرام کا حصہ تھا۔ یہ واقعہ عالمی دہشت گردی کی "واپسی” کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں افغان سرزمین سے روابط مشکوک ہیں۔ (یہ حوالہ صارف کی پہلی خبر سے جڑا)
- تاجکستان میں ڈرون حملہ: نومبر 2025 میں تاجکستان میں 3 چینی ملازمین پر مسلح ڈرون حملہ ہوا، جسے UN رپورٹ میں IS-KP اور ال-Qaeda کی سرگرمیوں سے جوڑا گیا، جو افغان سرزمین سے چل رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے 17 اکتوبر 2025 کی بریفنگ میں کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے روابط واضح ہیں، اور عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں۔
بھارت-افغانستان روابط: دہشت گردی کے تناظر میں خدشات
UN رپورٹ کے برعکس، بھارت نے افغان طالبان کے ساتھ روابط بڑھا لیے ہیں، جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
- سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے: ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی مارچ 2025 کی رپورٹ کے مطابق، بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کرنے پر متفق ہوئے، جو دہشت گردی کے خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے معاشی روابط بڑھا رہے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں بھارت نے اپنی کابل ٹیکنیکل مشن کو مکمل سفارتخانہ بنا دیا، جو طالبان کی "قانونی تسلیم” کی طرف اشارہ ہے۔
- امیر خان متقی کا دورہ بھارت: اکتوبر 2025 (9-16 اکتوبر) میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے S. جیشنکار سے ملاقات کی اور تجارت، صحت اور تعلیم میں تعاون پر معاہدے کیے۔ متقی نے بھارت کو "قریبی دوست” کہا اور علاقائی استحکام پر بات کی، مگر اسی دوران پاکستان پر افغان جارحیت ہوئی۔
- پاکستان پر جارحیت: متقی کے دورہ کے دوران (11-15 اکتوبر 2025)، افغان طالبان اور TTP نے پاکستان کی سرحد پر "بلا اشتعال حملہ” کیا، جس میں پاکستانی فوجی چوکیوں پر فائرنگ ہوئی۔ پاکستان نے اسے "غیر جائز جارحیت” کہا اور جوابی کارروائی کی، جس میں 58 افغان فوجی ہلاک ہوئے (طالبان کا دعویٰ)۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے سرحد بند کر دی، جو تجارت اور انسانی نقل و حرکت کو متاثر کر رہا ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی نومبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق، بھارت-افغانستان کے بڑھتے تعلقات (جیسے براہ راست ایئر کارگو فلائٹس) جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں۔ بھارتی وزیر خارجہ S. جیشنکار نے پاکستان کو "مشترکہ خطرہ” کہا، جو علاقائی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان کا موقف
پاکستان کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان کو دہشت گردی روکنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، اور بھارتی مداخلت (جیسے TTP اور BLA کی حمایت) کو روکا جائے۔ عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ طالبان پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بنے۔
