بھارت کو IMF کی سالانہ رپورٹ میں دوسرا سب سے نچلا درجہ "C” گریڈ، معاشی ڈیٹا کی "سنگین خامیاں” بے نقاب

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیاکاروبار

واشنگٹن : عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے اپنی تازہ ترین آرٹیکل IV رپورٹ میں بھارتی معیشت کو مسلسل دوسرے سال بھی دوسرے سب سے کم درجے "C” گریڈ دے دیا، جسے عالمی سطح پر بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں IMF نے بھارتی حکومت کے پیش کردہ معاشی اعداد و شمار کو "انتہائی پرانا، ناقص اور غیر معتبر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2011-12 کی بنیاد پر تیار کردہ GDP ڈیٹا آج بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جو عالمی معیارات سے کوسوں دور ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے اہم نکات

  • بھارت کے قومی کھاتوں میں "سنگین ڈیٹا خامیوں” کی وجہ سے معاشی نگرانی کا عمل شدید متاثر ہو رہا ہے
  • بھارتی حکومت کا "آمدنی کی بنیاد پر GDP حساب کرنے” کا طریقہ بارہا ماہرین کی تنقید کا نشانہ بن چکا ہے
  • "C” گریڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کے معاشی اعداد و شمار میں ایسی خامیاں ہیں جو پالیسی سازی اور عالمی درجہ بندی کو غیر معتبر بناتی ہیں
  • IMF نے خبردار کیا کہ یہ خامیاں برقرار رہیں تو بھارت کی معاشی ترقی کے دعووں پر مزید سوالات اٹھیں گے

یاد ہے کہ IMF کے ڈیٹا کوالٹی انڈیکس میں "C” گریڈ کا مطلب "سنگین ناکامی” ہے – اس سے صرف چند ممالک ہی نیچے ہیں۔

بھارتی میڈیا اور ماہرین نے اس رپورٹ کو "مودی حکومت کے معاشی دعووں پر بڑا طمانچہ” قرار دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر #IMFExposesIndia ٹرینڈ کر رہا ہے۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت خود کو "دنیا کی تیزی سے بڑھتی معیشت” کہلوا رہا ہے، مگر عالمی ادارے نے اس کی بنیادیں ہی کھوکھلی قرار دے دی ہیں۔