اڈیالہ جیل کو سیاسی ہیڈ کوارٹر یا سیکرٹریٹ نہیں بننے دیں گے:پرویز رشید

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد : مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے احتجاجوں کو "غیرقانونی اور انتشار کی دعوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کو سیاسی ہیڈکوارٹر یا سیکرٹریٹ نہیں بننے دیں گے، اور ملاقاتیں صرف عدالتی احکامات کے تحت ہی ممکن ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے PTI کی جانب سے عمران خان کی ملاقاتوں کی روک ٹوک پر احتجاج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "طاقت کے زور پر مطالبات پورے نہیں ہوتے، قانون کا راستہ اپنائیں”۔ سڑکوں پر لشکر کشی اور دھرنوں سے ملک انتشار کی طرف جائے گا، اور ایسے مظاہرے دہشت گردی کو مزید فروغ دیتے ہیں۔

پرویز رشید نے واضح کیا کہ:

"اڈیالہ جیل کو پارٹی ہیڈکوارٹر بنانا غیر قانونی سمجھا جائے گا۔ ملاقاتیں صرف عدالتی حکم کے تحت ہونی چاہییں۔ دھرنوں اور شور شرابے سے عدلیہ کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل پارلیمنٹ اور عدالتیں ہیں، نہ کہ طاقت کا استعمال۔ ملک کی سیاسی اور اقتصادی سالمیت بچانے کے لیے قانون کی حکمرانی ناگزیر ہے، اور پوری قوم کو ایسے غیر قانونی دھرنوں اور لشکر کشیوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

تناظر: PTI کا احتجاج اور اڈیالہ جیل تنازع

یہ بیان PTI کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر جاری احتجاجوں کے پس منظر میں آیا ہے، جہاں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور کارکنوں نے ملاقاتوں کی روک ٹوک پر دھرنا دیا ہے۔ 25 نومبر 2025 کو علیمہ خان اور PTI حامیوں نے جیل کے قریب سٹ این دیا، جو پولیس کی یقین دہانی پر ختم ہوا، مگر ملاقات نہ ہوئی۔ جیل انتظامیہ نے عمران خان کی صحت کو "اچھی” بتایا اور ملاقاتوں کو جیل مینوئیل کے مطابق قرار دیا۔

PTI رہنما سہیل آفریدی نے بھی 27 نومبر کو جیل پہنچ کر ملاقات کی کوشش کی، جو ناکام رہی، اور انہوں نے منگل کو ہائیکورٹ اور جیل باہر بڑے احتجاج کا اعلان کیا۔ سینیٹ میں PTI ارکان نے احتجاج کیا، جس پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے افواہوں کو "بھارتی میڈیا کی پیداوار” کہا۔

اڈیالہ جیل، جو 1986 میں تعمیر ہوئی، اب 6,000 سے زائد قیدیوں کی صلاحیت رکھتی ہے اور عمران خان سمیت PTI کی اعلیٰ قیادت کو قید رکھتی ہے۔ PTI کا الزام ہے کہ ملاقاتیں روک دی گئیں، جبکہ حکومت اور جیل انتظامیہ انہیں "بے بنیاد” قرار دے رہی ہے۔