عمران خان کی صحت کی افواہوں پر سینیٹ میں ہنگامہ،افواہیں بھارتی میڈیا کی پیداوار ہیں۔ طارق فضل چوہدری

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد : سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) ارکان کی جانب سے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کی روک ٹوک پر شدید احتجاج ہوا، جس دوران حکومتی اراکین سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو "جھوٹ اور غلط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان بالکل خیریت میں ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں۔

اجلاس کے دوران PTI کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ "عمران خان سے متعلق ہمارا سوال کا جواب نہیں ملا، عوام کی پریشانی کا سطح بہت بڑھ گئی ہے”۔ انہوں نے گزشتہ تین ہفتوں سے عمران خان کی ملاقاتوں کی روک ٹوک پر تنقید کی، جس کے نتیجے میں PTI ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا: "عمران خان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں، ہمیں بتائیں کہ تین ہفتوں سے کون ملا ہے؟ اگر ملاقات نہ دی جائے تو ہم اجلاس نہیں چلنے دیں گے”۔ اس پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "آپ ایسے دھمکیاں نہیں دے سکتے کہ اجلاس نہیں چلنے دیں گے”۔

طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ "سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت اور زندگی سے متعلق افواہیں بھارتی میڈیا کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں”۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے براہ راست بات کی ہے، جو یقین دلاتے ہیں کہ عمران خان "ٹھیک ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں”۔ وزیر نے زور دیا کہ یہ افواہیں پاکستان سے باہر سے منظم کی جا رہی ہیں، اور جیل انتظامیہ نے ان کی صحت کو "بالکل نارمل” قرار دیا ہے۔

اجلاس میں کورم کی نشاندہی پر 30 منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا، تو PTI اراکین نے دوبارہ احتجاج کیا اور "عمران سے ملاقات کرواؤ” کے نعرے لگائے۔ اس ہنگامے کی وجہ سے کارروائی مزید متاثر ہوئی۔

پس منظر اور سوشل میڈیا پر ہلچل

یہ احتجاج گزشتہ چند دنوں میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کا نتیجہ ہے، جہاں #WhereIsImranKhan ٹرینڈ کر رہا ہے۔ عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو "ڈیتھ سیل” میں رکھا گیا ہے اور تین ہفتوں سے خاندان یا وکلاء کی ملاقات نہیں ہوئی۔ PTI کے رہنماؤں اور خاندان نے عدالت میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، کیونکہ عدالت کے حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

حکومت کی طرف سے دفاع میں کہا گیا کہ عمران خان کو "فائیو سٹار ٹریٹمنٹ” مل رہا ہے، بشمول ذاتی باورچی اور ورزش کی سہولیات۔ تاہم، PTI کا کہنا ہے کہ یہ "صحت کی تصدیق” (proof of life) کا معاملہ ہے، اور خاموشی عوام کی تشویش بڑھا رہی ہے۔

X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ افواہوں نے ہزاروں PTI حامیوں کو اڈیالہ جیل کے باہر جمع کر دیا ہے، جہاں احتجاج جاری ہیں۔ ایک پوسٹ میں عمران خان کو "ڈیپ سٹیٹ کا شکار” قرار دیا گیا، جبکہ دوسری میں جیل ذرائع نے ان کی صحت کو "اچھی” بتایا۔