اسلام آباد میں امریکہ-پاکستان انسدادِ دہشت گردی ڈائیلاگ

پاکستانتازہ تریندنیا

امریکہ اور پاکستان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی ڈائیلاگ کا تازہ ترین دور اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم مکالمے کی مشترکہ صدارت اقوام متحدہ میں پاکستان کے خصوصی سیکرٹری نبیل منیر اور امریکی محکمہ خارجہ کے قائم مقام کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشت گردی گریگوری ڈی لوگرفو نے کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، دولتِ اسلامیہ خراسان، اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے لاحق خطرات پر تفصیلی بات چیت کی، اور ان کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر امریکی پابندیاں

ڈائیلاگ کے موقع پر امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے ذیلی گروہ مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، بی ایل اے کو 2019 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے تنظیم نے متعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق، 2024 میں بی ایل اے نے کراچی ایئرپورٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس کے قریب خودکش حملے کیے، جب کہ 2025 میں جعفر ایکسپریس ٹرین کی ہائی جیکنگ کی ذمہ داری بھی اسی گروہ نے قبول کی۔
اس حملے میں 31 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد مسافر یرغمال بنائے گئے تھے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر پاک، امریکا تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں، دی اکانومسٹ کا مضمون

پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا گیا

امریکہ نے خطے اور دنیا کے امن و استحکام کو یقینی بنانے میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور کامیابیوں کو سراہا۔ خاص طور پر بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے اور خضدار میں اسکول بس پر بم دھماکے جیسے واقعات کے تناظر میں ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

—فوٹو: یو ایس ایمبیسی/ایکس

ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیکیورٹی فریم ورک پر زور

دونوں ممالک کے وفود نے دہشت گرد عناصر کی جانب سے نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا اور ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک اور صلاحیتوں کی تعمیر پر زور دیا۔

کثیرالجہتی تعاون کی یقین دہانی

امریکہ اور پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر انسدادِ دہشت گردی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کو دوبارہ دہرایا۔ فریقین نے موثر اور پائیدار حکمتِ عملی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت دینے پر بھی اتفاق کیا۔