دہلی پولیس نے راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے دیگر اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا
دہلی پولیس نے پیر کے روز لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اہم اپوزیشن رہنماؤں کو اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے تحت پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ کر رہے تھے۔
یہ احتجاج مبینہ طور پر ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں، الیکشن کمیشن کی مبینہ جانبداری، اور ’ایس آئی آر‘ (Standardisation of Electoral Rolls) کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ اس مارچ میں کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ شریک تھے۔
حراست میں لیے گئے افراد میں راہل اور پرینکا گاندھی کے علاوہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت اور معروف صحافی و کارکن ساگاریکا گھوس بھی شامل ہیں۔
راہل گاندھی: "یہ سیاسی نہیں، آئین کے تحفظ کی لڑائی ہے”
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا:
"حقیقت یہ ہے کہ وہ بات نہیں کر سکتے۔ سچائی ملک کے سامنے ہے۔ یہ لڑائی سیاسی نہیں ہے۔ یہ لڑائی آئین کے تحفظ کی ہے۔ یہ لڑائی ون مین، ون ووٹ کے لیے ہے۔ ہمیں صاف ستھری ووٹر لسٹ چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مشین ریڈ ایبل ووٹر لسٹ فراہم نہ کرنا الیکشن کمیشن کی جانب سے بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا ثبوت ہے، جس کے ذریعے مہاراشٹرا اور ہریانہ میں ووٹ چوری کیے گئے۔
بی جے پی کا ردعمل: "سب جھوٹ کا پہاڑ ہے”
دوسری جانب بی جے پی رہنما دھرمیندر پردھان نے دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راہل گاندھی پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ملک میں اگر کوئی آئین مخالف کام کر رہا ہے تو اس کے لیڈر راہل گاندھی ہیں۔ کانگریس ای وی ایم، مہاراشٹرا، اور ہریانہ کے بہانے جھوٹ کا پہاڑ کھڑا کر رہی ہے۔ ’ایس آئی آر‘ کا عمل نیا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا باقاعدہ طریقہ کار ہے۔”
ٹرمپ کے سامنے مودی کی خاموشی کی وجہ کیا ،راہول گاندھی نے بتادیا
الیکشن کمیشن کا مؤقف: "الزامات گمراہ کن ہیں”
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے راہل گاندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ ریاستی الیکشن آفیسر کو تحریری طور پر آگاہ کرے۔
یاد رہے کہ راہل گاندھی نے گذشتہ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے تھے اور الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا تھا۔
