اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن کی غزہ پر قبضے کی مخالفت، اقوام متحدہ کا منصوبہ فوری روکنے کا مطالبہ
اسرائیل کی سیکیورٹی و سیاسی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر فوجی قبضے کے منصوبے کی منظوری پر ملک کے اندر اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
جہاں ایک طرف اسرائیلی فوج کے سربراہ اور حزبِ اختلاف نے اس فیصلے کی مخالفت کی، وہیں اقوام متحدہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر فوری طور پر نظرِ ثانی کرے۔
فوجی سربراہ ایال زمیر کی مخالفت
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے سیکیورٹی کابینہ کے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ: "غزہ شہر پر براہِ راست قبضے سے باقی ماندہ یرغمالیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔”
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، زمیر نے متبادل کے طور پر غزہ پٹی کے گرد اضافی محاصرہ کرنے کی تجویز دی، تاکہ انسانی نقصان اور فوجی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل قبضے کی صورت میں:
-
تقریباً 20 مغویوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے
-
فوج کو غیر معمولی تھکاوٹ کا سامنا ہو گا
-
اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا
اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ کا سخت ردعمل
اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کے منصوبے کو "ایک سانحہ جو مزید سانحات کو جنم دے گا” قرار دیا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا:
"نیتن یاہو دائیں بازو کے انتہا پسند وزراء، ایتامار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کے دباؤ میں آکر ایک ایسا فیصلہ کر بیٹھے ہیں جو:
یرغمالیوں اور فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے
عوام پر اربوں شیکل کا مالی بوجھ ڈالے گا
اسرائیل کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا”
یائر لاپڈ نے مزید کہا کہ:
"یہی حماس چاہتی تھی — کہ اسرائیل ایک ایسے بے مقصد قبضے میں پھنس جائے جس کا نہ کوئی واضح ہدف ہو، نہ انجام۔”
اقوام متحدہ کا سخت موقف: "فوری طور پر منصوبہ روکیں”
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ٹرک نے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
"یہ منصوبہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کو اپنے قبضے کا فوری خاتمہ کرنا ہوگا۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام:
-
فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی راہ میں رکاوٹ ہے
-
دو ریاستی حل کی امیدوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے
- اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کی غزہ پر قبضے کے منصوبے کی منظوری
برطانیہ اور آسٹریلیا کا بھی سخت مؤقف
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اسرائیلی فیصلے کو "غلط” قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ اقدام یرغمالیوں کی رہائی میں مدد نہیں دے گا، بلکہ مزید خونریزی کا باعث بنے گا۔ اسرائیلی حکومت کو اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کرنی چاہیے۔”
اسی حوالے سے برطانیہ کی جونیئر وزیرِ توانائی میاٹا فہن بولا نے بھی بیان دیا کہ:
"ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور ہمیں امید ہے کہ اسرائیل اس پر دوبارہ غور کرے گا۔”
آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے بھی اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا:
"اسرائیل اس راستے پر نہ چلے جو صرف غزہ میں انسانی المیے کو مزید بدتر بنائے گا۔”
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آسٹریلیا تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا، مگر اسرائیل کے اقدامات پر تنقید میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
