اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھر کو 9 مئی کیس میں 10 سال قید کی سزا

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

لاہور :پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بچھر کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں اور اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کوٹ لکھپت جیل میں قائم عدالت میں کیس کی سماعت مکمل کی، جہاں فریقین کے وکلا نے حتمی دلائل پیش کیے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے کے دیگر شریک ملزمان، بشمول رکن قومی اسمبلی احمد چھٹہ اور متعدد پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔

عدالتی کارروائی اور تفصیلات

  • فیصلہ سناتے وقت ملک احمد بچھر سمیت تمام مرکزی ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے۔

  • عدالت نے پہلے سے ہی بچھر اور دیگر 32 ملزمان کو حاضری سے استثنیٰ دے رکھا تھا۔

  • جیل ٹرائل کے دوران عدالت نے شاہ محمود قریشی سمیت 14 دیگر ملزمان کا ٹرائل مکمل کیا۔

  • اس کیس میں 61 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کو مزید دلائل دینے کے لیے عدالت نے کل صبح 10 بجے کا وقت دیا ہے، جس کے بعد ان کے کیس کا فیصلہ بھی متوقع ہے۔

یوم سیاہ 9 مئی کے بعد  تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب سے بڑا جھٹکا

سیاسی منظرنامہ اور قانونی پیشرفت

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور متعدد کارکنان کے خلاف دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ، اور اشتعال انگیزی جیسے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

میانوالی ہنگامہ آرائی کیس کے زیادہ تر ملزمان ضمانت پر رہا ہیں جبکہ دیگر مقدمات میں قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔