ایران کے پاس اب ایٹمی ہتھیاربنانے کی صلاحیت نہیں رہی، امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران اب ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے، اور اگر اس نے مستقبل میں دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکی فوج فوری طور پر کارروائی کرے گی۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ: "ایران جوہری ہتھیار کے بہت قریب پہنچ چکا تھا، لیکن صدر کی قیادت میں امریکی افواج نے کسی جانی نقصان کے بغیر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا۔”
☢️ ایران کا جوہری پروگرام — خطرہ یا ختم؟
امریکی نائب صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواب عارضی طور پر ختم ہو چکا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ میں ایران کے 17 ایٹمی سائنسدان شہید ہو چکے ہیں اور امریکا نے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
🚀 ایران کا جوابی حملہ: آپریشن بشارت الفتح
نائب صدر کے بیان کے برعکس، ایران کی جانب سے جوابی حملے کے طور پر "آپریشن بشارت الفتح” کے دوران قطر میں واقع امریکی ایئر بیس پر 14 میزائل فائر کیے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، یہ حملہ امریکی مداخلت اور ایران کے سائنسدانوں کی شہادت کے ردِعمل میں کیا گیا۔
تاہم امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور میزائلوں کو بڑی حد تک روک لیا گیا۔
🎙️ نائب صدر جے ڈی وینس کا مکمل بیان:
"ایران اگر سمجھتا ہے کہ وہ دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھے گا تو ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ ہماری فوجی تیاری مکمل ہے، اور کسی بھی اقدام کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔”
