ہیٹ ویوز، ایشیائی باشندوں کے لیے خطرے کی گھنٹی، ایشیا عالمی اوسط سے دوگنا تیز ہونے لگا، رپورٹ

اہم خبریںدنیا

عالمی موسمیاتی تنظیم (ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن – WMO) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ "دی اسٹیٹ آف دی کلائمیٹ ان ایشیا 2024” جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایشیا عالمی اوسط سے تقریباً دوگنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سال 2024 یا تو تاریخ کا سب سے گرم یا دوسرا سب سے گرم ترین سال رہا، جس کے دوران شدید اور طویل گرمی کی لہریں، خشک سالی، گلیشیئر پگھلاؤ، طوفانی بارشیں اور سمندری طوفان دیکھنے میں آئے۔


🌡️ دوگنا گرمی، دوگنا خطرہ:
WMO کے مطابق، 1991 سے 2024 کے دوران ایشیا میں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار، 1961 سے 1990 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا رہی۔
2024 میں ایشیا کا اوسط درجہ حرارت 1.04 ڈگری سینٹی گریڈ 1991–2020 کی اوسط سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔


🧊 گلیشیئرز اور پانی کی سلامتی کو شدید خطرات:
وسطی ہمالیہ اور تیان شان میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
مطالعے میں شامل 24 میں سے 23 گلیشیئرز کے حجم میں کمی واقع ہوئی، جس سے گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور طویل المدتی پانی کے بحران جیسے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔


🌧️ شدید بارشیں، خشک سالی، اور سمندری طوفان:
رپورٹ کے مطابق 2024 میں:

  • خشک سالی نے پاکستان، افغانستان، اور وسطی ایشیا میں زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا۔

  • شدید بارشوں اور طوفانوں نے بنگلہ دیش، فلپائن، چین اور نیپال میں سینکڑوں ہلاکتوں اور اربوں ڈالرز کے نقصانات کا سبب بنے۔

  • بحر الکاہل اور بحیرہ ہند کے کنارے سطح سمندر میں عالمی اوسط سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو کہ ساحلی آبادیاں کے لیے ایک نیا خطرہ ہے۔


🌊 سمندر اور سطح زمین کی تبدیلیاں:

  • سمندر کا ریکارڈ رقبہ گرمی کی لہروں کی زد میں رہا

  • سطح سمندر کے درجہ حرارت میں تاریخی اضافہ

  • ایشیا میں سطح سمندر کی بلند ہونے کی شرح عالمی اوسط سے دوگنا رہی


🔬 سائنسدانوں کی تشویش:
ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے خبردار کیا کہ:

"موسمیاتی تبدیلی کا اثر اب ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ شدید موسم ناقابلِ قبول سطح تک پہنچ چکا ہے، اور اس کا براہِ راست اثر انسانی جانوں، معیشتوں اور قدرتی نظاموں پر پڑ رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے قومی موسمیاتی اداروں اور عالمی شراکت داروں کا کردار اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔


📍 نیپال کی مثال — امید کی کرن:
رپورٹ میں نیپال کی ایک کیس اسٹڈی شامل کی گئی ہے، جس میں "ارلی وارننگ سسٹمز” اور پیشگی اقدامات کو سراہا گیا ہے، جنہوں نے موسمی خطرات کے وقت مقامی کمیونٹیز کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔