ایران پر امریکی حملہ،ایٹمی تنصیبات کے مقام بارے کیا معلوم تھا،اقوام متحدہ کی مذمت
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، امریکہ نے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پابندیاں، تخریب کاری، سائبر حملے اور سفارتی مذاکرات جیسے مختلف طریقے اپنائے۔ مگر اتوار کی صبح ایران کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2:30 بجے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا فوجی اقدام کیا جس سے ان کے گزشتہ چار پیشرو دانستہ گریز کرتے رہے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ جنگ میں جھلس سکتا ہے۔
ریپبلکنز کی حمایت اور اختلافی آوازیں:
کانگریس میں سرفہرست ریپبلکن رہنماؤں نے ہفتے کے روز صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تین ایٹمی مقامات پر حملے کے حکم کی فوراً حمایت کی، تاہم سینئر ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدام امریکہ کو ایک وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے۔
پالیسی میں یو ٹرن:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں سے امریکہ کو دور رکھنے کے حامی رہے ہیں، لیکن اب ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں میں شامل ہو کر انہوں نے ایک بڑا جغرافیائی و سیاسی یو ٹرن لے لیا ہے۔
ایران کی وارننگ:
ایران نے امریکی حملوں کے بعد خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کے “ہمیشہ رہنے والے نتائج” ہوں گے۔
امریکا کو ایران پر حملے کے مقام کے بارے میں کیا معلوم تھا؟
امریکی میڈیا کے مطابق فردو اور نطنز ایٹمی تنصیبات پر حملہ ایران کے مقامی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق فردو اور نطنز پر امریکی حملوں کی توقعات تھیں مگر اصفحان زیادہ پیچیدہ اور کم زیرِ بحث ہدف تھا، وہاں لیبارٹریز اس بات پر تحقیق کرتی تھیں کہ یورینیئم کو کس طرح اس درجے پر لایا جائے جہاں وہ ایٹمی ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کو وہاں رکھا جاتا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنصیب کو عالمی معائنہ کار جانتے تھے۔ فردو ایٹمی تنصیب قم شہر کے قریب پہاڑوں میں 260 فٹ نیچے واقع ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اصفحان میں واقع ایٹمی پلانٹ میں 3 ہزار سائنسدان کام کرتے تھے جہاں چین کے تیار کردہ 3 نیوکلیئر ری ایکٹرز موجود ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس تنصیب کا تحفظ کرنے کے لیے روسی دفاعی نظام بھی نصب تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا بیان:
“میں آج امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ ایک خطرناک بڑھاوا ہے، جو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار خطے میں امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
یہ تنازع تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے، جس کے عام شہریوں، خطے اور دنیا بھر پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
میں تمام رکن ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ کشیدگی کم کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
اس نازک گھڑی میں، انتشار کے چکر سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
فوجی حل کوئی حل نہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے، اور امن ہی واحد امید ہے۔”
ایران پر امریکی حملے کی تفصیل:
ہفتے کی رات، امریکہ نے ایران کے تین کلیدی ایٹمی مراکز پر حملے کیے، اور اسرائیل کی جنگ میں باقاعدہ شریک ہو گیا۔
یہ حملے ممکنہ طور پر اس تنازع کے ایک زیادہ خطرناک مرحلے کا آغاز ہیں۔
امریکہ نے ایران کے اصفہان ، فردو سمیت ان تین ایٹمی مراکز کو نشانہ بنایا ہے
ایرانی حکومت ماضی میں بارہا امریکہ کے ساتھ براہِ راست عسکری تصادم کے دہانے پر پہنچی لیکن ہر بار پیچھے ہٹ گئی۔
اب، امریکی حملوں کے بعد، یہ تنازع ایک نئے اور سنگین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد “ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا” ہے، اور خبردار کیا کہ “اگر امن جلد نہ آیا تو مزید حملے کیے جائیں گے۔”
