مغربی ایران سے موساد کے مزید 5 مشتبہ ایجنٹ گرفتار

اہم خبریںدنیا

ایران کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے ملک کے مغربی حصے سے مزید پانچ مشتبہ موساد ایجنٹس کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے ایران کے مقدس نظام اور قومی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈ (IRGC) کے جاری کردہ بیان کے مطابق، گرفتار شدہ مشتبہ افراد کا تعلق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے ہے۔ ان پر عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، ریاست کے خلاف نفسیاتی جنگ چھیڑنے اور ایران کے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی امیج کو مسخ کرنے کی منظم کوششوں کا الزام ہے۔

ترجمان کے مطابق:

"یہ افراد ایران دشمن عناصر کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی مہمات، مذہبی اور سماجی حساس موضوعات کو نشانہ بنایا، اور ملک کے اندر بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔”


پس منظر: ایران-اسرائیل کشیدگی میں اضافہ

یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ 13 جون کو اسرائیل کے مبینہ فضائی حملے میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد حسین بغیری کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ شدید ہو چکا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران نے متعدد بار اسرائیل پر سائبر حملوں، داخلی انتشار اور بغاوت پھیلانے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مختلف شہروں سے موساد سے وابستہ ایجنٹوں کے نیٹ ورکز کو توڑا ہے۔


آن لائن محاذ پر "خاموش جنگ” جاری؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ صرف عسکری نہیں بلکہ سائبر اور اطلاعاتی جنگ کا بھی محاذ ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی ایجنسیاں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ایرانی عوام کو گمراہ کرنے، نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کو فروغ دینے کی منظم مہم چلا رہی ہیں۔

ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاریاں ملکی سیکیورٹی اور سالمیت کے تحفظ کے لیے اہم سنگ میل ہیں، اور ان افراد سے تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں۔