جنگ کا چھٹا روز، اسرائیلی فوج کا ایران میں سینٹری فیوج اور اسلحہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں واقع جوہری تنصیبات، سینٹری فیوج پروڈکشن سائٹس اور اسلحہ ساز فیکٹریوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں امام حسین یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو پاسداران انقلاب سے منسلک ایک اہم تحقیقی ادارہ ہے۔
سینٹری فیوج وہ حساس مشینری ہے جس کے ذریعے یورینیم کو افزودہ کیا جاتا ہے، اور یہی عمل جوہری توانائی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔
بی بی سی نے اسرائیل کے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، لیکن حملوں کے فوری بعد ایرانی ردعمل اور فضائی نگرانی سے ملنے والے شواہد اس دعوے کو جزوی طور پر تقویت دیتے ہیں۔
نطنز تنصیب: جوہری پروگرام کا دل
ایران کی نطنز جوہری تنصیب اس تنازع میں خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تہران سے 250 کلومیٹر جنوب میں واقع اس تنصیب میں 14,000 سینٹری فیوج مشینیں نصب ہیں، جن میں سے 11,000 فعال ہیں۔ یہ تنصیب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف 2007 سے فعال ہے اور اس کی استعداد 50,000 سینٹری فیوجز تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
یہی مقام ممکنہ طور پر اسرائیلی حملوں کا اہم ہدف رہا ہے، اگرچہ ایرانی حکام نے حملے کے مقام کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
امریکی شمولیت: دباؤ یا عملی حمایت؟
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس، بشمول "فلائٹ ریڈار 24″، نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی فوجی ٹینکر طیارے یورپ سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ طیارے لڑاکا طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرتے ہیں، جو کسی بڑی فضائی کارروائی کی تیاری یا اس کی حمایت کا عندیہ دیتے ہیں۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کے تجزیہ کار جسٹن برونک کے مطابق یہ پیش رفت امریکہ کے اس منصوبے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ "شدید جنگی کارروائیوں” میں ممکنہ طور پر اسرائیل کی مدد کرے گا۔
امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس نیمٹز کی مشرق وسطیٰ منتقلی اور امریکی اہلکاروں کو شیلٹرز میں منتقل کیے جانے کی ہدایات بھی اس کشیدہ صورتحال کا پتہ دیتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا خفیہ رابطہ
اس صورتحال کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ رابطہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی اجلاس سے قبل ہوا، لیکن اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ سے اس بات کی توقع کر رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ جنگ میں اس کا ساتھ دے، یا کم از کم اس کی عملی و سفارتی مدد کرے۔
ایرانی ردعمل: مذمت اور دھمکی
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر سخت بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کو "دہشت گرد صیہونی ریاست” قرار دیا اور کہا کہ ایران بھرپور طاقت سے صیہونی ریاست کے خلاف کارروائی کرے گا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر "فتح-1 ہائپرسونک میزائل” داغے، جو اسرائیل کے دفاعی نظام کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان حملوں میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اسرائیلی سیکیورٹی نیٹ ورک پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
انسانی بحران اور نسلی امتیاز کا پہلو
اسرائیل میں جاری حملوں کے بعد لاکھوں شہری زیر زمین پناہ گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں کو ان شیلٹرز میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ "الجزیرہ” کے مطابق، اسرائیلی حکومت صرف خالص یہودی شہریوں کو پناہ گاہوں میں داخل ہونے دے رہی ہے، جو نسلی امتیاز کی ایک سنگین مثال ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تل ابیب سمیت کئی شہروں میں شہری مستقل طور پر زیر زمین منتقل ہو چکے ہیں، اپنے بچوں اور پالتو جانوروں سمیت۔
عرب دنیا کا مؤقف
اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید نے ایرانی صدر سے رابطہ کرتے ہوئے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس رابطے کو عرب دنیا کی بدلتی ہوئی سفارتی پالیسی کا مظہر بھی کہا جا رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
بین الاقوامی سفارتی ردعمل
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور متعدد عالمی ادارے اس بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں ایران، عراق اور اسرائیل کا سفر نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں کی مدد کے لیے خصوصی "مڈل ایسٹ ٹاسک فورس” قائم کر دی ہے۔
