چینی صدر شی جن پھنگ کا چین-وسطی ایشیا تعلقات میں طلباء کے فعال کردار پر زور
بیجنگ/آستانہ : چینی صدر شی جن پنگ 16 سے 18 جون تک قازقستان کے دارالحکومت آستانہ کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ دوسری چین-وسطی ایشیا سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے مابین باہمی تعاون اور خطے کے مستقبل کے لیے مشترکہ ترقی کے امکانات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سلسلے کی پہلی سربراہی ملاقات مئی 2023 میں چین کے تاریخی شہر شی آن میں منعقد ہوئی تھی، جس میں چین اور وسطی ایشیا کے پانچ ممالک نے روایتی دوستی، اجتماعی ترقی اور قریبی شراکت داری پر اتفاق کیا تھا۔
اسی موقع پر صدر شی جن پنگ نے چین کی چائنا یونیورسٹی آف پیٹرولیم (بیجنگ) میں زیر تعلیم وسطی ایشیائی طلباء کو ایک بامعنی خط بھی ارسال کیا۔ خط میں انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو نئی نسلوں تک منتقل کریں اور اس میں ایک فعال کردار ادا کریں۔
صدر شی نے لکھا: "آپ نہ صرف ان تعلقات کے گواہ اور فائدہ اٹھانے والے ہیں بلکہ آپ ان کے معمار اور فروغ دہندہ بھی ہیں۔” ان کے اس پیغام نے وسطی ایشیائی طلباء کے دلوں میں نئی امید، اعتماد اور وابستگی کو جنم دیا۔
طلباء کا کہنا تھا کہ صدر شی کا خلوص بھرپور پیغام انہیں عزت، اہمیت اور مستقبل کے پل بننے کے احساس سے سرشار کر گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چین اور اپنے ممالک کے درمیان دوستی کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یہ دورہ اور اس نوعیت کے جذبات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ چین اور وسطی ایشیا ایک قریبی ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کی جانب سنجیدگی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔
