کسانوں کے لیے انقلابی اقدامات، ایک ہزار مفت ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے

پاکستانساؤتھ نیوز

 وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب  عاشق حسین کرمانی نے ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو گندم اگاؤ مہم کا حصہ بننا چاہیے تاکہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ گندم اگاؤ مہم کے تحت کسانوں کو ایک ہزار ٹریکٹر مفت فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کبھی کسانوں کو مفت ٹریکٹر فراہم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ اسکیم کے تحت اب تک ساڑھے پانچ لاکھ کسانوں نے استفادہ کیا ہے اور اس کے پہلے فیز کی 98.5 فیصد ریکوری ہو چکی ہے۔ خریف سیزن کے لیے اب تک 63 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

وزیر زراعت نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے زراعت کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 128 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کو گندم کے نرخوں پر تحفظات تھے، جس پر حکومت نے انہیں 5 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دی۔

ملتان: متی تل کے علاقے میں فائرنگ، تین خواتین سمیت چار افراد زخمی

سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس کا مقابلہ جدید زرعی حکمت عملی سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کسانوں کی خوشحالی کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے اور جنوبی پنجاب وزیر اعلیٰ کے دل کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ٹریکٹر اور زرعی مشینری پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا اور کھادوں پر بھی نیا ٹیکس نہ لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل ڈی اے پی کھاد کی قیمت 16 ہزار اور یوریا 7 ہزار روپے تھی، جو اب کم ہو کر بالترتیب 12,400 اور 4,400 روپے ہو چکی ہے۔

سید عاشق حسین کرمانی نے مزید بتایا کہ اس وقت صوبے میں 34 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نے کسانوں کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے ہیں تاکہ زراعت کے شعبے کو مستحکم کیا جا سکے۔