بنگلہ دیش کے کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب الرحمان کی تصویر ہٹا دی گئی، نئے نوٹ جاری
بنگلا دیش کے مرکزی بینک نے ملک میں کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کا اعلان کرتے ہوئے بانیِ بنگلا دیش شیخ مجیب الرحمان کی تصویر کو نوٹوں سے ہٹا دیا ہے، جسے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
📜 نوٹوں پر اب قدرتی مناظر اور آثارِ قدیمہ
اتوار کو بنگلا دیش بینک کی جانب سے 500، 200، 100، 10، 5 اور 2 ٹکہ کے نئے نوٹوں کے ڈیزائن جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں قدرتی مناظر، تاریخی عمارتیں اور ثقافتی ورثے کی جھلکیاں نمایاں کی گئی ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق، یہ اقدام ’’تاریخی و آثارِ قدیمہ کی عکاسی‘‘ کے عنوان سے شروع کی گئی ایک مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کی تاریخ، ورثے اور ثقافت کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
🔄 تمام مالیت کے نوٹوں میں تبدیلی، پرانے نوٹ برقرار رہیں گے
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی سیریز تمام کرنسی نوٹوں (1000، 500، 200، 100، 50، 20، 10، 5، 2 ٹکہ) پر محیط ہو گی۔
واضح رہے کہ 1000، 50 اور 20 ٹکہ کے نوٹ پہلے ہی گردش میں آ چکے ہیں، جبکہ دیگر نوٹ مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
عوام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام پرانے نوٹ اور سکے بدستور قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
🔐 سیکیورٹی فیچرز اور معلومات کا اجرا
بینک حکام کے مطابق، ہر نئے نوٹ کے اجرا کی تاریخ اور اس میں شامل جدید حفاظتی فیچرز کی تفصیل باضابطہ پریس ریلیز کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی۔
یہ قدم جہاں ایک طرف بین الاقوامی معیار کے سیکیورٹی اقدامات کی طرف پیش رفت ہے، وہیں اس سے بنگلا دیش کی شناخت کو نئی جہت دینے کی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔
🧍 سیاسی پس منظر: مجیب کی تصویر کا خاتمہ، ایک نئی سیاسی فضا؟
شیخ مجیب الرحمان کو "بابائے قوم” مانا جاتا ہے اور کئی دہائیوں سے بنگلا دیشی کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر موجود رہی ہے۔
نوٹوں سے ان کی تصویر کا اچانک غائب ہو جانا کئی تجزیہ کاروں کے نزدیک ملکی سیاسی فضا میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 5 اگست کو حکومت مخالف شدید مظاہروں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دیا اور ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئیں۔
🏛️ نگران حکومت کا کنٹرول
فی الحال ملک کی باگ ڈور ایک نگران حکومت کے ہاتھ میں ہے، جو تقریباً 17 کروڑ آبادی پر مشتمل اس جنوبی ایشیائی ملک کو سنبھالے ہوئے ہے۔
موجودہ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نوٹ سیاسی نہیں بلکہ قومی ورثے کے نمائندہ ہیں، تاہم بعض مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی ماضی کے اقتدار کی علامتوں کو مٹانے کی ایک ممکنہ کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
