بھارت اور بنگلا دیش نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں
جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان تجارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، بھارت نے بنگلا دیش کو دی جانے والی ٹرانزٹ سہولت معطل کر دی ہے۔ اس سہولت کے تحت بنگلا دیش اپنی برآمدات کو بھارتی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچاتا تھا۔
بھارتی حکام نے بندرگاہوں اور ایئرپورٹس پر بڑھتے ہوئے رش کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹرانزٹ سہولت جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
بنگلا دیش کا ردعمل
بھارتی اقدام کے جواب میں بنگلا دیش نے بھارت سے روڈ کے ذریعے درآمد کیے جانے والے سوتی دھاگے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈھاکا کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے جو سستے درآمدی دھاگے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال دونوں ملکوں کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں معاشی تعاون کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
بنگلا دیش بھارت سے کپاس، دھاگہ اور ٹیکسٹائل کے دیگر خام مال کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے، جبکہ بھارت کو ٹرانزٹ سہولت بند کرنے سے بنگلا دیش کی برآمدی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
علاقائی تعلقات پر اثرات
یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں تجارت اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدے کیے تھے۔ تاہم اب یہ فیصلے علاقائی ہم آہنگی پر سوالیہ نشان بناتے نظر آ رہے ہیں۔
