عورت کی کمائی بے برکت؟ ثمینہ پیرزادہ نے دو ٹوک جواب دے دیا

انٹرٹینمنٹ

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اور قابلِ احترام اداکارہ ثمینہ پیرزادہ ایک بار پھر اپنے سچ اور جرات مندانہ خیالات کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ حالیہ دنوں ایک نجی یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ثمینہ پیرزادہ نے خواتین کی کمائی، مردوں کے کردار اور ازدواجی زندگی میں باہمی احترام پر کھل کر گفتگو کی، جس کے مختلف کلپس اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شوبز کی چند شخصیات کے متنازع بیانات نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر رکھا ہے۔ صائمہ قریشی کی جانب سے دیا گیا یہ بیان کہ "عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی” اور اداکارہ سارہ خان کی فیمینزم سے لاتعلقی کے اظہار نے ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔ ایسے میں ثمینہ پیرزادہ کی گفتگو ایک واضح، مدلل اور مثبت پیغام کے طور پر ابھری ہے۔

وائرل ہونے والے کلپس میں سے ایک میں ثمینہ پیرزادہ نے عورت کی کمائی کو بے برکت قرار دینے کے نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا:
"یہ سب باتیں بکواس ہیں۔ برکت کا تعلق مرد یا عورت سے نہیں، بلکہ حلال و حرام، خلوص اور محنت سے ہے۔ اگر میری کمائی میں برکت نہ ہوتی تو میں اپنی بیٹیوں کو اچھی تعلیم کیسے دیتی؟”

انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے شوہر عثمان پیرزادہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، ذمہ داریاں بانٹیں، اور دونوں خاندانوں کا خیال رکھا۔ ثمینہ نے کہا:
"میں نے بیٹیوں کو تعلیم دی، عثمان نے گھر بنایا۔ ہم نے ایک دوسرے کو سپورٹ کیا۔ شادی، محبت اور ذمہ داری کا نام ہے۔”

ایک اور کلپ میں ثمینہ پیرزادہ نے مردوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی مرد میرے لیے دروازہ کھول رہا ہے یا نہیں، لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کی ماں نے اس کی اچھی تربیت کی ہے۔ اگر عثمان میرے لیے دروازہ کھولتے ہیں تو میں کہتی ہوں، ‘امی! یو ڈان آ گڈ جاب’۔”

اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور عثمان پیرزادہ ہمیشہ ایک دوسرے کے والدین اور خاندان کے لیے یکساں احترام اور محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
"اگر عثمان اپنے خاندان کی مدد کرنا چاہتے تھے تو میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ اسی طرح وہ میری والدہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی دیکھ بھال میں ہمیشہ شریک رہے۔”

ثمینہ پیرزادہ کی یہ گفتگو نہ صرف ان کے ذاتی تجربات کا آئینہ ہے بلکہ یہ معاشرتی رویوں اور غلط فہمیوں کا بھرپور جواب بھی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بھی ان کے خیالات کو خوب سراہ رہے ہیں، اور اسے خواتین کی خودمختاری، عزت اور برابری کے حوالے سے ایک مثبت پیغام قرار دے رہے ہیں۔