عالمی بینک کا پاکستان کے لیے 40 ارب ڈالر کے مالی تعاون کا اعلان، عملدرآمدی منصوبہ تیار ہونے لگا

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینکاروبار

اسلام آباد: وزارت اقتصادی امور نے عالمی بینک کے "کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک” کے تحت پاکستان کے لیے 40 ارب ڈالر کے مالی تعاون پر عملدرآمد کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ امداد 2026 سے 2035 کے درمیان فراہم کی جائے گی، جو پاکستان کی معیشت، ماحول اور سماجی شعبوں میں بہتری کے لیے استعمال ہوگی۔

اقتصادی امور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق عالمی بینک نے پہلی مرتبہ پانچ سال کے بجائے دس سالہ شراکتی منصوبہ ترتیب دیا ہے، جو زیادہ طویل المدتی اور پائیدار ترقی کے اہداف کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر قرض کی صورت میں دیے جائیں گے، جو تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، صاف توانائی کی فراہمی اور ایئر کوالٹی میں بہتری جیسے اہم شعبوں پر خرچ ہوں گے۔

مزید یہ کہ منصوبے میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور شمولیتی اقتصادی ترقی کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے تحت نجی سرمایہ کاری کے لیے مزید 20 ارب ڈالر کی شمولیت متوقع ہے۔

کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو حکومت پاکستان کی ترجیحات اور "اڑان پاکستان” پلان سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد دیرپا ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔