یورپی ملک مالٹا کا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان
یورپی ملک مالٹا نے فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو فلسطینیوں کی عالمی سطح پر تسلیم شدگی کی طرف ایک بڑا اور علامتی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ابیلا نے دارالحکومت موسٹا میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت وہ پہلی مالٹی حکومت ہوگی جو 45 سالہ طویل بحث کے بعد فلسطینی ریاست کو رسمی اور قانونی طور پر تسلیم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ:
"ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔”
رپورٹ کے مطابق مالٹا پہلے ہی فلسطینی ریاست کے ساتھ عملی تعلقات رکھتا ہے، اور وہاں ایک فلسطینی سفیر بھی موجود ہے، لیکن رسمی سطح پر تسلیم شدگی کا یہ پہلا موقع ہوگا۔
وزیر اعظم نے اشارہ دیا کہ یہ اقدام 20 جون کو کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کی ایک مجوزہ کانفرنس کی تاریخ ہے۔ مالٹا کے وزیر خارجہ ایان بورگ نے بھی ہفتے کے روز عندیہ دیا تھا کہ مالٹا اور دیگر یورپی ممالک اسی دن مشترکہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی حملے، فلسطینی خاندان کو پناہ دینے کا اعلان
خطاب کے دوران رابرٹ ابیلا نے غزہ کی موجودہ صورتحال اور جاری اسرائیلی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"مالٹا ان انسانی سانحات سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بننے والے النجار خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد کو مالٹا میں پناہ دی جائے گی۔
یاد رہے کہ غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں اسرائیلی حملے میں ڈاکٹر حمدی النجار اور ان کی اہلیہ علا النجار کے 9 بچے شہید ہوگئے تھے، جبکہ ڈاکٹر اور ان کا بیٹا آدم شدید زخمی ہوئے۔
رابرٹ ابیلا نے کہا:
"مالٹا النجار خاندان کو مکمل پناہ دے گا، اور انہیں ہمارے شہریوں جیسا تحفظ اور حقوق دیے جائیں گے۔”
