بجلی کی خریداری میں حکومتی اجارہ داری ختم کرنے کا فیصلہ ، مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام پر غور
اسلام آباد: پاکستان نے بجلی کی خریداری میں حکومت کی واحد اجارہ داری ختم کرتے ہوئے ایک مسابقتی بجلی مارکیٹ قائم کرنے کا ارادہ کرلیا ہے، جبکہ عالمی بینک نے اصلاحات کی حمایت میں 55 ملین امریکی ڈالر کی نئی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری نے ورلڈ بینک کے آپریشنز کی منیجنگ ڈائریکٹر انا بیجرڈے کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران بتایا کہ پاکستان جلد ہی بجلی کی مسابقتی منڈی کو فعال کرے گا، جس سے بجلی کی خریداری کا عمل زیادہ شفاف اور آزاد ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کی تیاریوں کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے اور مارکیٹ کے موثر انتظام کے لیے ایک خود مختار ادارہ "انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر” قائم کیا جائے گا۔ اس ادارے کا کام نظام کی شفافیت اور بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا ہوگا، جس میں ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔
اویس لغاری نے اصلاحات کے دوسرے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محصولات کی وصولی میں بہتری اور ہدفی سبسڈی کے نفاذ کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ سبسڈی صرف ان صارفین کو دی جائے جو واقعی مستحق ہیں۔
اس موقع پر انا بیجرڈے نے پاکستان کے توانائی شعبے کی جدید کاری میں عالمی بینک کی معاونت کا عزم دہرایا اور ہدفی سبسڈی کے نظام کی حمایت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 7000 میگاواٹ اضافی بجلی کے ذخائر دستیاب ہیں اور حکومت کا منصوبہ ہے کہ صنعتی شعبے کو کم ترین نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے تاکہ خطے میں صنعتی ترقی کو فروغ ملے۔
