مودی حکومت کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا وفد اختلافات کا شکار، ٹیلی گراف

اہم خبریںدنیا

پاکستان سے سفارتی اور عسکری محاذ پر شرمندگی کا سامنا کرنے کے بعد بھارت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنے کی تازہ کوششیں بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی ہیں۔

عالمی جریدے "ٹیلی گراف” کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مختلف جماعتوں پر مشتمل سفارتی وفد کی تشکیل کے فیصلے کو ہی بھارت کے اندر سیاسی تنازع میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

سفارتی وفد پر مودی سرکار اور اپوزیشن میں لفظی جنگ

رپورٹ کے مطابق بھارت میں سفارتی وفد کے سربراہ ششی تھرور کے تقرر نے حکمران جماعت بی جے پی اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے درمیان نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن کی مختلف جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے وفد میں تمام جماعتوں کو مساوی نمائندگی نہیں دی، بلکہ سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

اپوزیشن نے وفد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا

متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے مودی سرکار کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے وفد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ حکومت سفارتی کمیٹی کو بھی اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ راہول گاندھی کی جانب سے بھیجے گئے چار نام بھی حکومت نے مسترد کر دیے۔

ششی تھرور کی تقرری نے کانگریس میں بےچینی پیدا کر دی

کانگریس کے سینیئر رہنما ششی تھرور نے نیوز کانفرنس میں انکشاف کیا کہ انہیں مرکزی حکومت نے وفد کی قیادت کی پیشکش کی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ وہ پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ بھی ہیں، لیکن کانگریس نے ان کا نام وفد کے لیے نامزد نہیں کیا تھا۔

کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے ششی تھرور کی تقرری کو "باڈی لائن حکمتِ عملی” سے تشبیہ دی، جو 1932–33 کی ایشز کرکٹ سیریز میں فاسٹ باؤلرز کی جانب سے جان بوجھ کر حریف کھلاڑیوں کو زخمی کرنے کی کوشش پر مبنی تھی۔ تاہم، انہوں نے تھرور کے خلاف ممکنہ تادیبی کارروائی کے سوال کو ٹال دیا۔

ششی تھرور کی مودی کی پالیسیوں کی تعریف پر تنازع

ششی تھرور کی جانب سے وزیراعظم مودی کی پاکستان سے متعلق پالیسی (آپریشن سندور اور جنگ بندی) کی تعریف نے کانگریس کی صفوں میں بےچینی پیدا کر دی ہے۔ کئی حلقوں نے اسے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وفد میں شامل اراکین اور اپوزیشن کے اعتراضات

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے 7 رکنی وفد کے ناموں کا اعلان کیا جس میں ششی تھرور کے علاوہ بی جے پی کے روی شنکر پرساد اور بایجیانت پانڈے، جے ڈی یو کے سنجے کمار جھا، ڈی ایم کے کی کنی موزی، این سی پی-ایس پی کی سپریا سولے، اور شیو سینا کے شری کانت ایکناتھ شنڈے شامل ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ "مخلوط نمائندگی” نہیں بلکہ "من پسند افراد کی فہرست” ہے۔

بی جے پی کا کانگریس پر حملہ

بی جے پی کے سوشل میڈیا سربراہ امیت مالویہ نے اس معاملے پر راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ششی تھرور کی سفارتی اہلیت کی تعریف کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کانگریس نے انہیں نامزد کیوں نہیں کیا؟ کیا اس کی وجہ عدم تحفظ، حسد یا قیادت سے آگے نظر آنے والوں کو برداشت نہ کرنا ہے؟

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کانگریس کے نامزد کردہ ارکان جیسے سید نصیر حسین اور گورو گوگوئی نہ صرف اس ذمہ داری کے اہل نہیں، بلکہ ان پر ماضی میں پاکستان نواز سرگرمیوں سے وابستہ ہونے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔

کانگریس کے نامزد کردہ افراد کون ہیں؟

حکومت نے گزشتہ جمعے کو کانگریس سے 4 ارکان پارلیمنٹ کے نام طلب کیے تھے جن میں:

  • آنند شرما (سابق مرکزی وزیر)

  • گورو گوگوئی (ڈپٹی لیڈر، لوک سبھا)

  • سید نصیر حسین (راجیہ سبھا)

  • راجا برار (ایم پی) شامل تھے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی حتمی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔